خراج عقیدت ببارگاہِ حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمۃ براؤں شریف

 خراج عقیدت ببارگاہِ حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمۃ براؤں شریف


چارہ گر ہے سب کا ایوانِ شعیب الاولیاء

اس طرح جاری ہے فیضانِ شعیب الاولیاء


نائبینِ مصطفیٰ، اس کے مہکتے پھول ہیں

کتنا اچھا ہے گلستانِ شعیب الاولیاء


راز دارانِ طریقت کے ہے لب پر یہ صدا

جاری و ساری ہے عرفانِ شعیب الاولیاء


سنتِ سرکار کی خوشبو سے ہے آراستہ

مہکے ہردم کیوں نہ گلدانِ شعیب الاولیاء


جو رہے پابند تحریمہ کے اڑتالیس برس

خوب ہے مضبوط ایمانِ شعیب الاولیاء


نورِ ایماں سے منور دل ہے اس انسان کا

جس نے اپنایا ہے فرمانِ شعیب الاولیاء


مرکز حکمت بنا ہے آج بھی فیض الرسول

کیونکہ اس کو ملتی دانِ شعیب الاولیاء


مظہرِ یارِ علی کا تذکرہ ہوتا ہے جب

جھوم جاتے ہیں اسیرانِ شعیب الاولیاء


بڑھ گیا میرا متینی دہر میں عزو وقار

ہوگیا جب سے ثناخوانِ شعیب الاولیاء



نتیجۂ فکر

شاداب متینی علیمی سدھارتھ نگری

مقیم حال واپی گجرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے