حضور مجاہد ملت: ایک مرد قلندر

حضور مجاہد ملت: ایک مرد قلندر

                افتخاراحمدقادری برکاتی 
       امام التارکین فاتح عرب وعجم حضور مجاہد ملت حضرت علامہ شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری عباسی ہاشمی رضی الله تعالٰی عنہ کی ولادتِ باسعادت 08/ محرم الحرام 1322ھ مطابق 02/ مارچ کو دھام نگر ضلع بھدرک اڑیسہ کے ایک ایسے زمین دار گھرانے میں ہوئی جو صوبہ اڑیسہ کا سب سے بڑا زمیندار گھرانا مانا جاتا تھا- اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس گھرانے کی سالانہ آمدنی اس زمانے کے اعتبار سے 98/ ہزار روپے تھی اور یہ روپیہ اسٹیٹ کے نام سے پورے صوبہ میں متعارف تھا- اسٹیٹ کے ماتحت اڑیسہ کے بیشتر علاقے تھے، اس اسٹیٹ کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ ہر سال برٹش گورنمنٹ کو 49/ ہزار بطورِ خراج ادا کرتا تھا- اس مناسبت سے حضور مجاہد ملت حضرتِ علامہ شاہ حبیب الرحمٰن صاحب قادری عباسی رضی الله تعالٰی عنہ کو رئیس اعظم اڑیسہ کہا جاتا ہے- ایسے مال دار اور زمین دار گھرانے میں پرورش پانے کے باوجود آپ انتہائی سادگی پسند، منکسر المزاج، غریب پرور، حمیت سے سرشار، حق و انصاف کے علم بردار اور اخلاص و وفا کے خوگر رہے- آپ کی حیاتِ مبارکہ کا کوئی ایسا لمحہ نہیں ملتا جو سادگی کے ساتھ ساتھ شریعتِ مطہرہ کے سانچے میں ڈھلا ہوا نہ ہو- آپ نے تادمِ حیات نہ کسی پر اپنی رئیسی کا رعب جمایا اور نہ کسی کے ساتھ بدخلقی کا مظاہرہ فرمایا، بلاشبہ یہ خوبیاں آپ کی بے مثال خدا ترسی اور تقویٰ و پرہیز گاری کی روشن دلیل ہیں- یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ الله رب العزت نے یہ سارے اوصاف آپ کی فطرت میں اس طرح ودیعت فرما دیے تھے کہ ایام طفولیت ہی سے آپ کے ذہن و فکر کی طہارت، شریعتِ مطہرہ سے بے لوث محبت، قول و فعل میں یکسانیت، کردار و عمل کی نظافت، لہو و لعب سے حقارت، حق وصداقت سے الفت، بزرگانِ دین سے عقیدت اور دشمنانِ دین سے نفرت اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں بلکہ یہ اپنے دور کا ولئی کامل، قرآن و سنت کا پاسدار، حق وصداقت کا علم بردار اور باطل قوتوں کے سروں پر لٹکتی تلوار بن کر چھا جائے گا- انجام کار ہوا بھی ایسا ہی کہ آپ نے نہ صرف ہندوستان کی باطل قوتوں کو چاروں شانے چت کیا بلکہ ملک عرب میں جاکر سعودی نجدی ظالموں کے سینے پر پاؤں رکھ کر حقانیت کا علم نصب کر کے فاتح عرب وعجم کے لقب سے ملقب ہوگئے- بھلا کیوں نہ ہو جبکہ سرکارِ اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی الله تعالیٰ عنہ نے وصال کے تیس دن بعد ہی اپنے شہزادہ اکبر حضور حجتہ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان قادری علیہ الرحمتہ والرضوان کو آپ کے مبارک حلیہ کا مشاہدہ کرا کر فرمایا تھا: 
        "حامد رضا فکر و تردد میں پڑنے کی ضرورت نہیں، سامنے کھڑے نوجوان کو خوب پہچان لو، یہ اڑیسہ کا باشندہ زمین دار گھرانے سے تعلق رکھنے والا حبیب الرحمٰن ہے- اس کے تبحر علمی اور حق گوئی سے پورے عرب وعجم میں باطلوں کی سرکوبی ہوگی اور سنیت کا چراغ فروزاں ہوگا" 
 (نوائے حبیب کلکتہ کا حضور مجاہد ملت نمبر)

      حضور مجاہد ملت علیہ الرحمتہ والرضوان کے عزم و استقلال نے آپ کو انتہائی نڈر، بیباک اور حق گو بنا دیا تھا- آج بھی بھارت ہی میں نہیں بلکہ سرزمین عرب کے سینے پر بھی آپ کی حق گوئی کے زرریں نقوش زندہ و تابندہ ہیں- آپ نے نجدی ظالموں کے تمام تر مظالم خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت تو کر لیے لیکن سیدی سرکارِ اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ والرضوان کی آبرو پر آنچ نہیں آنے دی- وہ منظر کتنا عشق خیز رہا ہوگا جب ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حفاظت میں خود حضور اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں آپ کو پابہ زنجیر کیا گیا، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنائی گئیں، جسم پر کوڑوں کی برسات کی گئی، چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کیا گیا، شدید زد و کوب کیا گیا، یہاں تک کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا، اسی پر بس نہیں بلکہ آپ کو ادائیگی حج سے بھی روک دیا گیا- اس وقت آپ کا جرم صرف اتنا تھا کہ آپ نے گستاخ رسول حرم کے نجدی امام کی اقتدا نہ کی حالاں کہ قاضی القضات بڑی منت و سماجت کرتا رہا کہ آپ فقط ہمارے امام کے پیچھے دو رکعت ہی نماز پڑھ لیں- لیکن اس مرد قلندر نے بڑے بے باکانہ انداز میں جواب دیا تھا کہ دو رکعت کی کیا تخصیص؟ میں ایک لمحہ بھی گستاخ رسول کی اقتدا میں کھڑا نہیں ہو سکتا- اس وقت ایک ملعون نے آپ کو یہ کہہ کر مرعوب کرنا چاہا کہ جانتے ہو یہ قاضی القضات ہیں، تمہیں جان سے بھی مروا سکتے ہیں، لیکن واہ رے سراج السالکین، امام التارکین، فاتح عرب وعجم آپ نے جواب دیا! یہ تو میری خوش قسمتی ہوگی کہ مجھے میرے آقا کے دربار میں دفن ہونے کی جگہ مل جائے گی- صرف یہی نہیں بلکہ جب بھی اس مرد قلندر کو گونا گوں مظالم کا تختہ مشق بنایا گیا تو آپ بجائے ہراساں و پریشان ہونے کے زیرِ لب مسکراتے رہے- مسکراہٹ کی وجہ پوچھے جانے پر آپ نے ولولہ انگیز جواب دیا کہ نجدی ستم رانیوں پر خوش تھا اور میں حضرت بلال و عمار جیسے فدایان اسلام کی پاکیزہ سنتوں پر عمل کا زریں موقع آنے پر باغ باغ ہو رہا تھا- اس پر مستزاد یہ کہ قاضی القضات نے حج سے واپسی کا جابرانہ حکم سنایا تب بھی اس دین کے مجاہد کی پیشانی پر ذرہ برابر بھی غم و الم کا کوئی اثر نہ دیکھا گیا-
       مدینہ منورہ سے واپس آنے کے بعد آپ کے ایک عاشق زار نے بڑا چبھتا ہوا سوال کیا کہ حضرت حج سے واپسی کا حکم سننے کے بعد آپ کے دل پر کیا گزری؟ آپ نے اس قدر ایمان افروز جواب عنایت فرمایا کہ سنو! یہ حکم سننے کے بعد میری خوش بختی پر چار چاند لگ گئے- سائل نے پوچھا کیسے؟ آپ نے فرمایا! مجھے بڑی فکر تھی کہ سرکار کے دربار میں صحابہ کرام کی سنتوں پر عمل ہوچکا، آقا کی عظیم سنت کی ادائیگی باقی رہ گئی اور وہ تھی حج سے واپسی، سو وہ بھی ادا ہوگئی- مزید آپ نے فرمایا: کہ اس سانحہ سے میرے دل میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ میرے آقا مجھ سے راضی ہیں- ورنہ ایسے پر کیف لمحات بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں- سچ ہے کہ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمتہ والرضوان جیسی عبقری شخصیتیں دنیا میں بہت کم منصبہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہیں-
    کریم گنج، پورن پور، ضلع پیلی بھیت، یوپی_
               iftikharahmadquadri@gmail.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے