پیر کے شرائط اور نقلی پیروں کا رد

 پیر کے شرائط اور نقلی پیروں کا رد


عبدالقادر مصباحی جامعی

خادم جامعہ امیر العلوم مینائیہ گونڈہ یو پی



بیعت کا لغوی معنیٰ: بک جاناہے۔

 اِصطلاحِ شرع و تصوّف  میں بیعت  کی متعدد صورتیں ہیں:

 جن میں ایک یہ ہے کہ  کسی مرشد کامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے  نیک اَعمال کا اِرادہ  کرنے اور اسے ﷲ تبارک تعالٰی  کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔یہی بیعت سُنَّت بھی ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے  ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔

 بیعت کا ثبوت قرآنِ مجید میں موجود ہے. اﷲ تبارک وتعالیٰ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :

"یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ"بِاِمَامِهِمْۚ" اھ                                                

ترجمۂ کنزالایمان:جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔

اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمن  فرماتے ہیں:"اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح(نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے  شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے  اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح(نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا. 

اس آیت میں  تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے'' اھ

(نورُالعرفان : سورہ : بنی اسرائیل: آیت : ٧١، پارہ : ١٥) 


ایک مقام پر اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :

 "یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ"اھ

ترجمئہ کنزالایمان: اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا شریک کچھ نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضعِ ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے اُن کی مغفرت چاہو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے. 

(سورۃ الممتحنۃ : آیت : ١٢، پارہ: ٢٨)


احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا ذِکر آیا ہے اور یہ بیعت مختلف چیزوں مثلاً کبھی تقویٰ و اِطاعت پر،کبھی لوگوں کی خیرخواہی اورکبھی غیر معصیت(یعنی گناہ کے علاوہ)والے کاموں میں اَمیر کی اِطاعت وغیرہ  پر ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دوسرے  امور پر بھی صحابۂ کرام رضوان ﷲتعالٰی علیھم اجمعین  کا حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت ہونا ثابت ہے. 

 حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مشکل اور آسانی میں ،خوشی اور ناخوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ،سُننے اور اِطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اِقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سِوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں مَلامت کرنے وا لے کی مَلامت سے نہیں ڈریں گے.

( صحیح مسلم حدیث : ١٧٠٩،کتاب الامارة ، باب وجوب  طاعة  الامراء...الخ) 


حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن   صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   بیان کرتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سا تھ ایک مجلس میں تھے،حضور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:"تم لوگ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم  ﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور زِنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ  تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے ،تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پورا  کیا اس کا اَجر  اﷲ تعالٰی  پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا اِرتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی وہ اس کا کفّا رہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کو کیا اورا ﷲتعالٰی نے اس کا پَردہ رکھا تو اس کا مُعامَلہ اﷲتعالٰی کے سِپُرد ہے اگر وہ چا ہے تو اسے مُعاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے  عذاب دے"اھ

(صحیح مسلم: حدیث : ١٧٠٩،کتاب الحدود ، باب:  الحدود کفارات  لأھلھا...الخ) 

مذکورہ آیات و احادیث سے پیری مریدی کا ثبوت فراہم ہوتا ہے لیکن کیا ہر ایک ایرا گیرا انسان جس کو نہ عقیدہ پتا نہ نماز روزہ کے مسائل حتی کہ فرائض غسل اور وضو سے ناواقف شخص اور نماز روزہ کا اعلانیہ تارک پیر ہوسکتا ہے اور بندگان خدا اور مرید کرسکتا ہے اس مسٔلہ کو حل فرماتے ہوئے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ و الرضوان فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں :" بیعت لینے اور مسندِ اِرشاد پر بیٹھنے کے لئے چارشَرطیں ضَروری ہیں: 

(١): ایک یہ کہ سُنّی صحیحُ العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے کتے ہیں اور بدترین مخلوق، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے. 

( ٢):دوسری شرط ضَروری عِلم کا ہونا، اس لئے کہ بے علم خُدا کو پہچان نہیں سکتا۔

(٣):تیسری یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسِق کی توہین واجب ہے اور مُرشِد واجبُ التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔

(٤): چوتھی اجازتِ صحیح مُتَّصِل ہو جیسا کہ اس پر اہلِ باطن کا اِجماع ہے۔

جس شخص میں اِن شَرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو  اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے"اھ (فتاویٰ رضویہ: ج: ٢١ ،ص: ٤٩١)


ان چاروں شرطوں میں سے کوئی ایک بھی شرط اگر نہ پائی جائے تو اس سے بیعت ہونا جائز نہیں اور ایسا شخص لائقِ پیر بھی نہیں۔ 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے چار شرطیں بیان فرمائی ہیں لیکن حجۃ الاِسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ  الرحمہ نے پیر کامل اور مرشِد برحق کے اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں:

"وشـرط الشيـخ الـذي يصلح أن يكون نائباً لرسول الله صلى الله عليه وسلم، أن يكون عالماً، لان كل عالم لايصلح له، واني أبين لك بعض علامتـه على سبيل الاجمال حتى لا يدعي كل احد انه مرشد ، فنقول: هو من يعرض عن حب الدنيا وحب الجاه، وكان تابعاًلشخص بصير بتسلسـل مـتـابـعتـه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فان يكون محسناً ريـاضـة نفسه من قلة الأكل والشرب والقول والنوم وكثرة الصلوات والصوم والصـدقـة، وكان بمتابعة الشيخ البصير جاعلا محاسن الأخلاق له سيرة، كالصبر، والشكر، والتوكل، واليقين، والسخاوة ، والقنـاعـة، والأمانة وطمأنينة النفس وبذل المال والحلم، والتواضع ، والعلم، والصـدق، والحياء، والـوفـاء، والـوقـار، والسكـون، والتأني ، وامثـالهـا، فهـو إذا نور من أنـوار النبي صلى الله عليه وسلم ويصلح للاقتـداء"اھ


یعنی :شیخ کے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نائب ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ عالم ہو لیکن ہر عالم بھی مرشِدِ کامل نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا ہم یہاں اِجمالی طور پر مرشد کامل کی بعض علامات بیان کرتے ہیں تاکہ ہر شخص مرشِد و رَہبر بننے کا دعویٰ نہ کر سکے ۔

(١) پیرکامل وہی ہے جس کے دل میں دنیا کی محبت اور عزّت و مرتبے کی چاہت نہ ہو، 

(٢) وہ ایسے مرشد ِ کامل سے بیعت ہو جو نورِ بصیرت سے مالا مال ہو،

(٣)اس کا سلسلہ رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک متّصل ہو، 

(٤)نیک اَعمال بجا لانے والا ہو،

(٥) ریاضت ِ نفس کا عادی ہو،

(٦)کم کھانے، (٧)،کم سونے،

(٨)کم بولنے، (٩)کثرتِ نوافل،

(١٠) زیادہ روزے رکھنے، 

(١١) خوب صدقہ وخیرات کرنے جیسے نیک اَعمال کرنے والا ہو.

(١٢) نیز وہ پیرکامل اپنے شیخ کی کامل اِتباع کے سبب صبر،

(١٣)نماز  (١٤)شکر، (١٥)تَوَّکُل، (١٦) یقین، (١٧)سخاوت، 

(١٨) قناعت، (١٩)طمانیت نفس، (٢٠)حِلْم، (٢١)تواضع، (٢٢) علم، (٢٣) صدق، (٢٤)وفا، (٢٥) حیا اور

(٢٦) وقارو سکون جیسے پسندیدہ اَوصاف کا پیکر ہو ۔

پس جو پیرکامل ان اَوصاف سے متصف ہو تو وہ حضور اکرم نور مجسم صلی ﷲتعالٰی علیہ وسلم کے انوارِ مبارکہ میں سے ایک نور بن جاتا ہے اور اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسکی اِقتدا کی جائے۔( رسالہ ایھا الولد: ص:27) 


صدرُ الشریعہ، بدرُ الطریقہ حضرتِ علّامہ   محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں :

"جب مُرید ہونا ہو تو اچھی طرح تفتیش کر لیں، ورنہ اگر (کسی ایسے کو  پیر  بنا لیا جو) بد مذہب ہوا تو اِیمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

اے بسا اِبلیس آدم روئے ہست

پس بہر دستے نباید داد دست

یعنی کبھی اِبلیس آدمی کی شکل میں آتا ہے، لہٰذا ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہیے (یعنی ہر کسی سے بیعت نہیں کرنی چاہیے"اھ

( بہارِ شریعت: ج:١، ج: ١، ص: ٢٧٧)



لیکن ہمارے  معاشرے میں جاہل پیروں اور شیطان صفت باباؤں نے لوگوں میں علمائے کرام کے بارے میں بغض بھر رکھا ہے جب علما ان کی  اصلاح کے لیے نقلی  پیروں کا رد کرتے ہیں تو جاہل عوام خاص کر کے سنی عوام علما کے مخالف کھڑے ہو کر گندی گالیاں دینے شروع ہوجاتے ہیں اور اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔

یہاں پیر کے کامل ہونے کیلیے مرید کا جاہل ہونا ضروری ہے جتنا بڑا جاہل مرید ہوگا پیر اتنا ہی بڑا  پہنچا ہوا ہوگا۔

ہمارے سماج میں اکثر جاہل پیروں میں مذکورہ شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے وہ لوگ اپنے مریدوں کو شریعت و طریقت کو دو الگ الگ راہیں بتاکر اپنا الو سیدھاکرتے ہیں اور پھر ان کو گمراہ  کرتے رہتے ہیں جبکہ شریعت و طریقت جدا جدا نہیں ہیں. 


 امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : 

 ’’حاشا! نہ شریعت و طریقت دو راہیں  ہیں  نہ اولیا کبھی غیر علما ہو سکتے ہیں ، علامہ مناوی ’’شرح جامع صغیر ‘‘پھر عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی ’’حدیقہ ندیہ ‘‘میں  فرماتے ہیں :  امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : "علم الباطن لا یعرفہ إلاّ من عرف علم الظاہر" 

(الحدیقہ الندیہ:ج: ١، ص: ١٤٥، النوع الثاني)   

یعنی : علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے. 

امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

"و ماتخذ اللّٰہ ولیاً جاہلاً" 

اللہ تعالٰی نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا، یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا کہ جو علم ظاہر نہیں رکھتا علم باطن  کہ اسکا ثمرہ و نتیجہ ہے کیونکر پاسکتا ہے ‘‘ اھ

 (فتاوی رضویہ: ج: ۲۱، ص: ۵۳۰) 


صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : 

"کہ ولایت ایک قربِ خاص ہے کہ مولیٰ عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں   کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے۔ اور ولایت بے علم کو نہیں   ملتی، خواہ علم بطورِ ظاہر حاصل کیا ہو، یا اس مرتبہ پر پہنچنے سے پیش تر اﷲ عزوجل نے اس پر علوم منکشف کر دیے ہوں ۔ ( بہار شریعت : ج١، ح: ١، ص: ٢٦٥) 


امام اہل سنت فرماتے ہیں: " کہ جس  حقیقت کو شریعت رد کردے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے" اھ

(فتاویٰ رضویہ : ج:٢١ ، ص: ٥٤٦) 


پھر آپ نے حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کا ارشاد نقل فرمایا :

" کہ شریعت کی پرواہ نہ کرنے والے جعلی صوفیا سے چور اور زانی بہتر ہیں" اھ

(المرجع السابق ) 

قارئین آپ ذرا غور فرمائیں کہ چور کی سزا شریعت میں ہاتھ کاٹنا ہے اور زنا کا قتل کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کے بعد زنا کو گناہ کبیر بیان فرمایا ہے اورحضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے نقلی اور دھوکہ باز  صوفیوں کو ان دونوں سے بدتر فرمایا ہے کیونکہ  زانی جسم و عزت کا دشمن ہے  اور چور مال و دولت کا لیکن  نقلی اور  جاہل صوفی دین و ایمان اور شریعت محمدی سب کا دشمن ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟

لیکن اب سماج کا حال تو یہ ہے کہ مرید اسی کا پیر مانتا اور بناتا ہے جو ہاتھوں میں دس بیس انگوٹھیاں پہننے والا ہو، گلے میں درجنوں مالا ڈالنے والا ہو، داڈھی ہو یا نہ ہو لیکن لمبی لمبی لٹیں ہوں،مریدہ کے ہاتھوں اور ماتھوں  بوسہ دینے والا ہو، ہاتھ پیر دبانے سے منع نہ کرے، ناچ گانا باجا، جوا شراب، حقہ چلم کا شوقین ہو وضو اور غسل کے فرائض معلوم ہو یا نہ ہوں روزہ نما کے احکامات کی ہوا لگی ہو یا نہ لگی ہو لیکن وہی سب سے بڑا پیر تسلیم کیا جاتا ہے۔  اور جو اللہ تعالٰی کے برگزیدہ بندے جن کے اندر  مرشد کے شرائط بھی موجود ان کو کوئی ایک اچھا انسان بھی ماننے کے لیے تیار نہیں کسی نے کیا ہی خوب کہا


انقلابات نے یوں تنظیم گلستاں بدلا

پھول مرجھائے ہیں کانٹوں پہ بہار آئی ہے


امام اہل سنت فرماتے ہیں : 

" احکام شرع کی پابندی نہ کرنے والا زندیق ہے اور اسکے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے خوارق  عادات مکر استدراج ہیں" اھ 

(فتاوی رضویہ : ج: ٢١، ص: ٥٤٦) 


ایک مقام پر فرماتے ہیں : 

"مدعی تصوف اگر شریعت و طریقت کو جدا بتائے تو دروغ گو اور لاف زن ہے" اھ

(ص: ٥٤٨) 

سوبات کی ایک بات یہ ہے کہ ولی کا علم کتاب و سنت سے باہر نہ جائے گا. 

(ص: ٥٤٩) 

اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :"کہ بالجملہ شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس ایک ایک پل ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریک اس قدر ہادی کی زیادہ حاجت ولہذا حدیث میں آیا حضور سیدی عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:" بغیر فقہ کے عبادت میں پڑنے والا ایساہے جیسا کہ چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں" (اسے ابونعیم نے حلیہ میں واثلہ بن الاسقع رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا. 


(حلیۃ الاولیا لابی نعیم ترجمہ ج: ٥، ص: ٢١٩/الفتاویٰ الرضویہ ج: ٢١، ص: ٥٢٧)

اﷲتعالیٰ ہدایت کی توفیق عطا فرمائے

 عبدالقادر مصباحی جامعی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے