لوگ سنتے ہی نہیں!؟

 لوگ سنتے ہی نہیں!؟


از: جانشین فقیہ ملت حافظ و قاری حضرت مولانا مفتی ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری صاحب قبلہ


مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما

 تبلیغ دین جس طرح کردار،تحریر اور تقریر سے ہوتی ہے، اسی طرح  لوگوں کے درمیان جاکر، ان سے بات چیت کرکے بھی ہوتی ہے اور تجربات شاہد ہیں کہ یہ بھی تبلیغ کا بہت ہی مؤثر بلکہ دور حاضر میں سب سے زیادہ مفید طریقہ ہے، مگر آج کل کے دور میں اکثر علماے کرام نے لوگوں کے درمیان جاکر، ان سے بات چیت کے ذریعے اپنی تبلیغی ذمہ داری نہ نبھانے کا قولا یا عملا بہت آسان سا حیلہ و بہانہ تلاش کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ سنتے ہی نہیں، مانتے ہیں نہیں، قبول کرتے ہی نہیں؛ تو پھر ہم  تبلیغ کرکے کیا کریں گے؟! ان سے شرعی احکام کے بارے میں بات کرنے کا کیا فائدہ؟! اور اپنی محنت و کاوش ضائع کرنے کا کیا نتیجہ؟!

 اگر عوام اس طرح کی بات کرتی؛ تو شاید مجھے افسوس نہیں ہوتا، مگر چوں کہ یہ بات وہ لوگ کہ رہے ہیں جنہیں وارث انبیا ہونے کا دعوی ہے، یہ جملہ ان کی زبان سے نکل رہا ہے، جو اپنے آپ کو قرآن و حدیث کا پیرو کار کہتے ہیں، یہ فکر ان کی ہے، جو اپنے آپ کو اولیاے کرام کا گرویدہ سمجھتے ہیں؛ اس لیے ان کے اس طرح کے جملےسے جہاں بہت سے زیادہ افسوس ہوتا ہے، وہیں بہت زیادہ کبیدہ خاطر بھی ہوجاتا ہوں۔ میں آج کے اس مختصر مضمون میں چند سوالات کے ذریعے ایسے افراد کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑکر جگانے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں۔

 مجھے اس طرح کی فکر رکھنے والے علماے کرام  بتائیں کہ علماے ذوی الاحترام کی ذمہ داری راستہ دکھانا ہے یا مقصد تک پہنچانا ہے؟! مجھے امید قوی ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کا جواب یہی ہوگا کہ ان کی ذمہ داری مقصد تک پہنچانا نہیں بلکہ راستہ دکھانا ہے؛ کیوں کہ علماے کرام کو جن کا وارث کہا جاتا ہے، جب ان کی ذمہ داری مقصد تک پہنچانا نہیں بلکہ راستہ دکھانا ہے؛ تو پھر جو ان کے وارث ہیں، ان کی ذمہ داری، مقصد تک پہنچانا کیسے ہوسکتی ہے؟! 


طائف اور ہمارے نبی

 مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ دور حاضر کے اکثر علماے کرام تبلیغ دین سے یہ کہ کر دامن کیوں چھڑانا چاہتے ہیں کہ لوگ سنتے نہیں، کیا انھوں نے یہ نہیں پڑھا یا سنا کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم تبلیغ دین متین کے لیے طائف تشریف لے گیے؛ تو وہاں کے لوگوں نے آپ پر پتھر برسائے، یہاں تک کہ آپ کی نعلین مبارک خون سے لبریز ہوگئی، پھر بھی آپ نے تبلیغی مزاج کو ترجیح دی اور ان کے لیے دعائیں کیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واقعہ طائف کے بعد تبلیغ دین ترک تو نہیں کیا، آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ قوم نے میری بھلائی کا یہ صلہ دیا، اب میں تبلیغ کرنے کیوں جاؤں؟! انھیں دین کا صحیح راستہ کیوں دکھاؤں؟! طائف میں  اس طرح کے برتاؤ کے باجود، پوری زندگی آپ نے تبلیغ دین کبھی ترک نہیں فرمایا۔ پھر دور حاضر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نائب کہلانے والے لوگ اپنا دامن، اس طرح کا بہانہ کرکے تبلیغ دین کے مؤثر ترین طریقے سے کیوں کر چھڑاسکتے ہیں؟! نصیحت حاصل کرنی ہو؛ تو طائف کا یہی ایک واقعہ ہی کافی ہے اور جن کو نصیحت نہیں پکڑنا ہے، ان کے لیے سیکڑوں واقعات ناکافی ہیں۔ طائف کے واقعہ کی روشنی میں ہونا تو یہ چاہیے کہ انبیاے کرام نے جو بھی مشقتیں تبلیغ دین میں اٹھائی ہیں، علماے کرام کو بھی ہمیشہ تبلیغ دین کے لیے، وہ تمام تر مشقتیں اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ چلیے مان لیتے ہیں دور حاضر کے علماے کرام پتھر کھانے کی سکت نہیں رکھتے، خون بہانے کی قوت نہیں رکھتے اور اس طرح کی دیگر پریشانیاں جھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؛ تو کیا وہ تبلیغ دین کے لیے اپنا تھوڑا وقت نہیں صرف کرسکتے؟! تھوڑا روپیے خرچ نہیں کرسکتے؟! دو چند باتیں لوگوں کی برداشت نہیں کرسکتے؟!  اور ان کی رو گردانی کو نہیں جھیل سکتے؟! یقینا برداشت کرسکتے ہیں مگر کرنا نہیں چاہتے، اگر یہی حالت ہے اور یقینا یہی ہے؛ تو علماے کرام کو اپنے وارث انبیا ہونے پر نظر ثانی کرنا چاہیے؛ کیوں کہ علماے کرام کی یہ زندگی، انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کی زندگی کی آئنہ دار نہیں اور جو آئنہ دار نہیں وہ وارث انبیا کہلانے کا حقدار نہیں؛ اس لیے کہ جو ان کی زندگی کے آئنہ دار ہوتے ہیں، وہی وارث انبیا ہونے اور کہلانے کے حقدار ہوتے ہیں، دوسرا کوئی نہیں۔


سابق انبیاے کرام اور ان کی قوم کا حال

 حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے کچھ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام ایسے بھی گزرے ہیں، جن کی پوری زندگی، تبلیغ دین کے نتیجہ میں، ان پر صرف دو چند افراد ہی ایمان لائے اور کچھ ایسے بھی گزرے ہیں جو پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے، مگر ان پر ایک فرد بھی ایمان نہیں لایا! جب ان انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے قوم کی یہ حالت تھی؛ تو انھوں نے ایک دو بار دعوت و تبلیغ کے بعد، تبلیغ کا کام چھوڑ کیوں نہیں دیا؟! کیوں انھوں نے اپنے رب تعالی کی بارگاہ میں قوم کے ہدایت نہ اختیار کرنے کا عذر پیش کرکے، دین کی نشر و اشاعت سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کی، ایسی حالت ہونے کے باوجود وہ پوری زندگی کیوں تبلیغ دین کرتے رہے اور پوری قوم کو رب تعالی کی طرف بلاتے رہے؟! وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد صرف اللہ تعالی کی رضا اور اس کے حکم کی بجا آؤری ہے، قوم سنے یا نہ سنے، مانے یا نہ مانے، قبول کرے یا نہ کرے، رب تعالی کا حکم ہے؛ تو اس کے سامنے آمنا و صدقنا کی عملی تصویر پیش کرنی ہی ہے۔ کیا دور حاضر کے علماے کرام ان انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کی قیمتی زندگی سے کچھ سیکھ نہیں سکتے، ان کے مطابق چل نہیں سکتے، ان کے مطابق کردار نہیں پیش کرسکتے؟! یقینا کرسکتے ہیں مگر حیلہ بازی اور بہانے بازی کا برا ہو، جس نے علماے عظام کو اپنی ذمہ داری نبھانے سے بہت دور کردیا ہے۔


یہ پروگرام سے متعلق کیوں نہیں کہا جاتا؟!

 مگر ایک بات یہاں قابل غور ہے، عموما یہ علماے کرام یہ بہانہ بازی و حیلہ بازی وہیں کرتے ہیں، جہاں انھیں اللہ جل شانہ کی طرف بلانے کے لیے خود کے روپئے خرچ کرنا پڑے یا پھر موٹا نذرانہ نہ ملے، لیکن اگر موٹا نذرانہ ملنے والا ہو یا ان کے لیے خوب آؤ بھگت کا اہتمام ہو یا انہیں قوم کے درمیان گلدستہ بناکر پیش کیا جائے؛ تو وہ ضرور پہنچیں گے، اس وقت سارے عذر کافور ہوجاتے ہیں، تمام حیلے و بہانے اپنا اپنا راستہ ناپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس سے تو صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ عموما یہ علماے کرام دین کی تبلیغ کے لیے نہیں بلکہ روپئے کمانے کے لیے جاتے ہیں، یہ بات کہنے پر اس لیے مجبور ہوا؛ کیوں کہ آپ دین کی تبلیغ کے لیے نہیں نکلتے، مگر پروگرام کے لیے نکل پڑتے ہیں، آخر کیوں؟! آپ لوگوں کے گھروں تک، ان کو سمجھانے کے لیے نہیں جاتے، مگر جلسہ و جلوس میں پہنچنے کے لیے دل و جان سے بے تاب نظر آتے ہیں، آخر کیوں؟! آپ اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں کو گھنٹا دو گھنٹا نہیں دے سکتے، مگر پروگرام کے لیے رات، دن قربان کردیتے ہیں، آخر کیوں؟!


آخر کیوں؟! کا جواب

 آخر کیوں کا جواب یہی ہے کہ عام طور سے علما کہے جانے والے حضرات پکے دنیا دار ہوچکے ہیں، انھیں صرف دولت چاہیے، قوم جائے بھاڑ میں، کوئی حرج نہیں، انھیں صرف عزت و شہرت چاہیے، قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے، کوئی دقت نہیں، انھیں نوٹوں کی گڈیاں چاہیے، قوم اپنے فرائض و واجبات سے منحرف ہوتی رہے، کوئی مسئلہ نہیں، انھیں روپیوں کا انبار چاہیے اور پوری قوم جہالت کے دلدل میں ڈوبتی رہے، انھیں کوئی پرواہ نہیں۔ عموما علماے کرام کی یہی سوچ و فکر ہے یا پھر بالکل بے حسی و بے رغبتی کے شکار ہیں۔


قابل مبارک باد

 البتہ دور حاضر میں وہ علماے کرام خاص کر ضرور قابل مبارک باد ہیں، جو خلوص کے ساتھ تبلیغ دین کے لیے نکلتے ہیں، عوام کو اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں، انھیں اللہ جل شانہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بلانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اسی فکر کے حامل ہوتے ہیں کہ رب تعالی کے حکم کی بجا آؤری کرتے ہوئے، دعوت دینے کا کام اپنا ہے اور ہدایت دینا اللہ جل شانہ کے دست قدرت میں ہے، اگر وہ چاہے گا؛ تو ہدایت پائیں گے اور اگر نہیں چاہے گا؛ تو نہیں۔ رب تعالی ایسے علماے کی کثرت و نصرت فرمائے، آمین۔


آخری بات

 آج بھی اگر علماے کرام دور حاضر کے تقاضے کو محسوس کرتے ہوئے، انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کی حیات سے کچھ سبق حاصل کریں اور اپنے وارث انبیا ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے، ان کے طریقے پر چلنے لگیں، اپنے علاقے کے لوگوں کو وقت دینے لگیں، کد و کاوش کے خوگر ہوجائیں، محنت و مشقت کے عادی ہوجائیں، نرم نرم بستر کو خیر آباد کہ دیں، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضا کے واسطے، دین متین کی حرمت کی حفاظت کے لیے تھوڑا بہت وقت دینے لگیں،  پھر آگے چل کر مزید اس میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں، نام و نمود کو پس پشت ڈال دیں؛ تو ان شاء اللہ عوام و خواص، سب میں بہتری آئے گی، لوگ جوق در جوق مسجد کی طرف آئیں گے، مسجد کو اپنے سجدوں سے آباد کریں گے، وہابیت و دیوبندیت خود بخود دم توڑتی ہوئی نظر آئے گی۔ یاد رکھیے کہ ہمارے آقاے دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، یہ علماے کرام ہی انبیا علیہم الصلاۃ و السلام کی نیابت کرتے ہوئے ان کی ذمہ داریاں نبھائیں گے، اب اگر یہی سو گئے یا بے حسی کا شکار ہوگئے؛ تو قوم کو سونے یا بے حسی کا شکار ہونے میں وقت نہیں لگے گا؛ لہذا علماے کرام ہوش کے ناخون لیں اور وراثت کا پورا حق ادا کرنے کی کوشش کریں، ان شاء اللہ کامیابی و کامرانی  قدموں میں ہوگی اور اگر ذمہ داری اب بھی نہیں نبھائی اور صرف بات کرکے، تنقید کرکے، صرف مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہے؛ تو یاد رکھیے، نہ تو قوم میں سدھار آئے گا اور نہ ہی دیوبندیت و وہابیت کے بڑھتے قدم پر بند باندھا جاسکے گا؛ کیوں کہ طوفاں کا رخ وہی قوم موڑتی ہے جو طوفاں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھنے کے ساتھ، اس کے لیے دل و جان سے کوشاں رہتی ہے۔ موت کی طرح زندگی گزارنے والے، سوئی ہوئی قوم کی طرح اپنا کردار پیش کرنے والے اور صرف بات کرکے آنسو بہانے والے نہ تو کبھی کامیاب ہوئے تھے، نہ کبھی کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی کبھی کامیاب ہوں گے۔


انداز   بیاں   گرچہ   بہت   شوخ   نہیں   ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات


ابو عاتکہ ازہار احمد امجدی  مصباحی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی

 ۲۴؍محرم الحرام ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۳؍اگست ۲۰۲۲ء


پیش کش: ٹرسٹ فلاح ملت, اوجھاگنج, بستی, یو پی.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے