امام احمد رضا بحیثیت سائنس داں

امام احمد رضا بحیثیت سائنس دان


از: مولانا آصف جمیل صحافی روز نامہ شانِ سدھارتھ


لک الحمد یا اللّٰہ______والصلاتہ والسلام علیک یا رسول اللّٰہ ﷺ 

امابعد!

   [جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے]

اس سے قبل کہ ساٸنس کی تابوت میں اپنی تحقیقاتِ انیقہ کی آخری کیل ٹھونکنے والے عظیم المرتبت  ساٸنس داں امام احمد رضا قادری (١٣٤٠ھ/١٩٢١ ٕ) علیہ الرحمہ کی ساٸنسک ریسرچ پر لکھوں، یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے اختصار کے ساتھ "ساٸنس" کے متعلق بنیادی معلومات فراہم کروں تاکہ مطالعہ کرنے والے قارٸین حضرات یہ جان سکیں کہ برِّ صغیر پاک و ہند کا عظیم ساٸنس داں جملہ علوم صالحہ کے ہر گوشے سے واقفیت رکھتا تھا۔ اور ہمیشہ اپنا موقف  قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کو روزِ روشن کی طرح مکمل عیاں کرتا تھا۔
حالاں کہ افسوس اس بات کا ہے کہ دورِ حاضر میں ننانوے فیصد مسلمان اور مسلم ساٸنس داں آج صرف اور صرف مغربی افکار و نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں اور انہی کے خیالات و تحقیقات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور وہ یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ آج دنیا کی ساری ترقی سابقہ مسلم ساٸنس دانوں کی مرہونِ منت ہے۔
کاش کہ مسلمان فی زمانہ بھی قرآن و حدیث کا عمیق مطالعہ کریں جس سے دین کا عَلَم مزید بلند ہو اور کسی شٸ کے متعلق اپنا علاحدہ موقف قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کرسکیں۔

*ساٸنس کیا ہے؟*
ساٸنس کا مطلب علم ہے اور اس کا مطلب مطالعہ کرکے کسی چیز کے بارے میں جاننا ہے۔ ساٸنس حصول علم کا ایسا منظم ذریعہ ہے جس میں انسان براہِ راست تجربے اور مشاہدے کے ذریعے سے سیکھتا ہے۔ 
ساٸنس کل کاٸنات کا علم ہے اور یہ علم انسان کا اجتماعی ورثہ ہے۔

*ساٸنس کس زبان سے آیا ہے؟*
ساٸنس لفظ لاطینی "SCIENTIA" سے آیا ہے۔ نیز یونانی کے "SKHIZEIN" سے بھی آیا ہے۔ جس کا معنیٰ ہوتا ہے "الگ کرنا"، "چاک کرنا" یعنی ان مخصوص غیر فنونی علوم کے لیے جو انسان سوچ بچار، حساب کتاب اور کثرتِ مطالعہ کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔
 کچھ دانش مندوں نے ساٸنس کو آرٹ سے تعبیر کیا ہے۔ حالاں کہ ان دونوں کے مابین خلإ ارض و سمإ کا فرق ہے۔ 

 *ساٸنس اور آرٹ میں فرق*
آرٹس میں وہ شعبہ جات آتے ہیں جو انسان اپنی قدرتی ہنر مندی اور صلاحیت کے ذریعہ کرتا ہے____ اور 
ساٸنس میں وہ شعبہ جات آتے ہیں جن میں سوچ وچار، تحقیق اور تجربہ کرکے کسی شٸ کے بارے میں حقاٸق دریافت کیے جاتے ہیں۔ 
ساٸنس اور آرٹس کے درمیان یہ حد فاصل ناقابلِ عبور نہیں کہ جب کسی آرٹ یا ہنر کا مطالعہ منظم انداز میں ہو تو پھر یہ اس آرٹ کی ساٸنس بن جاتا ہے۔   
مسلم ساٸنس دانوں کی فہرست غایت طویل ہے مگر امام احمد رضا ایسے یکلوتے ساٸنس داں ہیں کہ علومِ ساٸنس پر جن کی سو سے زاٸد تصانیف حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور جن سے پوری دنیا میں آج بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ اپنے دور کے بڑے بڑے ساٸنس داں جنہیں اپنے ساٸنسی علوم پر ناز تھا جب انھوں نے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی علم ساٸنس پر لکھی کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو حیرت و استعجاب کے سمندر میں غرقاب ہونے لگے۔ 

محمد شاہد اسلم دیوبندی (ریسرچ اسکالر شعبئہ عربی مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ) اپنے تحقیقی مقالہ "ساٸنس قرآن کے آٸینے میں" میں لکھتے ہیں "امام احمد رضا علیہ الرحمہ برِّ صغیر کے پہلے ساٸنس داں، دانش ور اور عالمِ دین ہیں، جنھوں نے سر سید احمد خاں کے اس طرزِ عمل کے خلاف کہ "ساٸنس کی روشنی میں قرآن کو پرکھا جاۓ" یہ نظریہ پیش کیا کہ "ساٸنس کو قرآن کی روشنی میں پرکھا جاۓ" کیوں کہ یہ ایک ازلی اور ابدی حقیت ہے۔" (امام احمد رضا اور ساٸنسی تحقیق ص: ١٥٥ ) امام احمد رضا اسلامی ساٸنس کے داعی تھے اور ساٸنسی نظریات کو مذہبی تناظر میں پرکھتے تھے یہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔
نظریاتِ سرسید کا رد آپ نے انہی بنیادوں پر کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں "ساٸنس کو مسلمان کرنے کا طریقہ یہ کہ وہ تمام ساٸنسی مساٸل جنہیں اسلامی مساٸل سے اختلاف ہے سب میں مسٸلہ اسلامی کو روشن کیا جاۓ، دلاٸلِ ساٸنس کو مردود و پامال کردیا جاۓ۔ جابجا ساٸنس ہی کے اقوال سے مسٸلہ اسلامی کا اثبات ہو اور ساٸنس کا ابطال و اسکات ہو تو یوں قابو میں آۓ گا۔ 

 *امام احمد رضا کے ساٸنسی افکار و خیالات*
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے ساٸنس، ریسرچ و تحقیقات کی دنیا میں اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر ایسا نادر نمونہ کھوج نکالا ہے جسے دیکھ کر اور پڑھ کر بڑے بڑے اسکالرس و ساٸنس داں انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں اور آج سو سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا لیکن اس خطئہ زمیں پر کوٸی ایسا ماہرِ ساٸنسیات نظر نہ آیا جو آپ کے ساٸنسی افکار و خیالات کو باطل قرار دے۔ یہاں تک کہ آپ کی ساٸنسی تحقیقات سے جدید علوم کو خوب خوب فروغ  ملا ہے۔ 
آپ نے اسلام مخالف نظریات کے قلعوں کو مضبوط عقلی و نقلی دلاٸل کی ضربوں سے زمیں بوس کردیا۔ انہیں باطل نظریات میں نظریئہ  حرکتِ زمیں بھی ہے۔ یہ باطل نظریہ فیثاغورث نامی ماہرِ ساٸنسیات کا تھا۔ جس کی تاٸید ماہرِ ریاضیات کے پروفیسر کاپرنیکس نے اپنی مدلل نظر و فکر سے کی، جس کے نتیجے میں یہ نظریہ پھر سے زندہ ہوا۔ اور اپنے مکمل اثر و رسوخ کے ساتھ دوبارہ تابندہ ہوکر علم داں طبقہ کو جدید کامیابی و سرور عطا کرنے لگا۔ 
سن 1880ء  میں پروفیسر البرٹ آئن اسٹاٸن (اعلیٰ حضرت کا ہم عصر تھا) نے بھی فیثاغورث کے نظریئہ حرکتِ زمیں کو اپنے گوناگوں تجربات کی بنیاد پر باطل قرار دے دیا۔ جس کی خوب تشہیر ہوئی۔ ابھی زیادہ دن بھی نہیں گزرنے کو پائے تھے کہ البرٹ آئن اسٹاٸن نے اپنی نئی تحقیق منظر عام پر پیش کی کہ حرکتِ زمیں کے متعلق فیثا غورث نے جو ریسرچ پیش کی وہ بالکل درست ہے۔ مگر بقول سید محمد تقی یہ ساٸنس کی تاریخ کی سب سے زیادہ غیر عقلی توجیہ تھی۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے آٸن اسٹاٸن سمیت دگر ساٸنس دانوں کے افکار و خیالات کی ایسی تاریخی گرفت فرماٸی کہ ایک سو پانچ ٹھوس دلاٸل سے نظریئہ حرکتِ زمیں کو سراسر باطل قرار دیا۔ چناچہ فرماتے ہیں: 
بعونہ تعالیٰ فقیر نے رد فلسفئہ جدیدہ میں ایک مبسوط کتاب مسمیٰ بہ "فوزِمبین" (1338ھ__1919 ٕ ) رکھی جس میں ایک سو پانچ دلاٸل سے حرکتِ زمین  باطل کی اور جاذبیت و نافریت وغیرھا مزعومات فلسفئہ  جدیدہ پر وہ روشن رد کیے جن کے مطالعہ سے ہر ذی انصاف پر بحمدہ تعالیٰ آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ فلسفئہ جدیدہ کو اصلاً عقل سے مس نہیں (الکلمتہ الملھمتہ) 

*امریکی پروفیسر البرٹ ایف پورٹا کی ہولناک پیشین گوٸی پر امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا تحقیقی قول*
ممتاز امریکی ہیٸت داں ماہرِ موسمیات و ثواقب پروفیسر البرٹ ایف پورٹا جو کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا ہم عصر ساٸنس داں تھا۔ اس نے 17/ دسمبر سن 1919ء  کو دنیا کے سامنے ایک ہولناک پیشین گوئی کی (بقول پورٹا) کہ آفتاب کے سامنے اجتماع سیارگان کی کشش کے سبب آفتاب میں ایک گھاؤ نمودار ہوگا جس کے نتیجے میں قیامتِ صغرا برپا ہوگی، نظامِ کاٸنات مکمل طور سے الٹ پلٹ جائے گا۔ اس دن ایسا شدید طوفان آۓ گا جس سے آبادیاں غرقاب ہوجاٸیں گی تیز و تند آندھیاں چلیں گی جو اونچی اونچی عمارتوں کو خس و خاشاک کی طرح اڑا لے جاٸیں گی۔ اور زمین شدید زلزلے کے باعث جگہ جگہ سے پھٹ جاۓ گی  سمندروں میں مد و جزر کی عجیب و غریب ڈراونی کیفیات پیدا ہوجاٸیں گی۔ اور ان آفات ناگہانی کی وجہ سے دنیا کے بعض علاقے صفحئہ ہستی سے مٹ جاٸیں گے۔
البرٹ ایف پورٹا کی یہ پیشین گوٸی بانکی پور (پٹنہ بھارت)  کے انگریزی  اخبار ایکس پریس کے شمارہ 18/اکتوبر سن 9191ء میں شاٸع ہوٸی، جس کے سبب برصغیر (ہند و پاک) میں تہلکہ مچ گیا۔ اس سلسلے میں جب ممتاز مسلم ساٸنس داں ہیٸت داں امام احمد رضا علیہ الرحمہ سے رجوع کیا گیا تو انھوں نے پورٹا کے جواب میں بل کہ اس کی تحقیقات باطلہ کے رد میں ایک نہایت ہی محققانہ کتاب تحریر فرمائی جس کا تاریخی نام "معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین" (1338ھ___1999ء) رکھا۔ اور پورٹا کے بارے مں لکھا کہ "کسی عجیب بے ادراک کی تحریر ہے، جسے ہیٸت کا ایک لفظ نہیں آتا، سراپا اغلاط سے مملو ہے"۔ 
آپ نے اس رسالہ میں پورٹا کے بیان پر سترہ(17)مواخذات قاٸم کیے اور علمِ ہیٸت سے متعلق فاضلانہ بحث کی۔ اور آخرمیں لکھا کہ "بیان منجم پر اور بھی مواخذات ہیں، مگر سترہ دسمبر کے لیے سترہ ہی پر اکتفا کرتا ہوں" (واللّٰہ تعالیٰ اعلم) ادھر اخبار نیو یارک ٹاٸمز (امریکہ) کے 16__17/دسمبر 1919ء کے شماروں کے متعلق اس جھوٹی پیشین گوٸی کے شاٸع ہوتے ہی تمام عالم میں دہشت پھیل گٸی عوام سراسیمگی کے عالم میں بھاگ کھڑی ہوئی پیرس میں ہزاروں لوگ خوف کے مارے گرجا گھروں میں گھس گیے اور گِڑ گِڑ کر دعاٸیں کرنے لگے۔ تعلیمی ادارے بند کردیۓ گیے۔ ایک مقام پر اچانک سائرن کی گھنٹیاں بجنے لگیں جس سے لوگ سہم گیے۔ 
یہاں تک کہ پورٹا کی جھوٹی پیشین گوٸی کا اثر یہ ہوا کہ جملہ کاروبارِ حیات مفلوج ہوگیے تھے۔ حکومت ہو یا عوام ہر سطح پر خوف و دہشت کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہوگیے تھے۔
الغرض ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے تھے لیکن جب سترہ دسمبر کا سورج غروب ہوا تو پورٹا کی پیشین گوٸی قطعاً لغو اور فضول ثابت ہوٸی۔ حالاں کہ امام احمد رضا نے اپنی خدا داد صلاحیتوں سے جو کچھ فرمایا تھا حرف بحرف حق اور سچ ثابت ہوا۔ کیوں کہ امام احمد رضا نے جو کچھ پایا قرآن کریم اور فضل الٰہی سے پایا، عشقِ مصطفےﷺ سے پایا وہ ساٸنسی ظنیات پر قرآنی یقینیات و فرقانی آیات کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی نظر میں ساٸنسی نظریات ترقی پزیر ہیں۔ اور جو ترقی پزیر ہوتا ہے وہ مکمل نہیں ہوتا ہے۔ اور قرآنی آیات و نظریات مکمل و مفصل ہیں اور نامکمل کو تو مکمل کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ اپنے علوم کا ماخذ قرآن کریم کو قرار دیتے تھے۔ 
پورٹا کی اس جھوٹی پیشین گوئی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ دنیا کے تمام ہیٸت داں پورٹا کے (فاسد) خیالات سے متفق تھے اور اس کی تاٸید کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا حکم دے دیے تھے۔ مگر ان تمام انگریزی ساٸنس دانوں کے افکار و خیالات تدابیر و احتیاطیں ایک طرف اور ایک مولوی ساٸنس داں احمد رضا کے انمول اقوال و افکار ایک طرف دنیا کے تمام جید ساٸنس داں ایک مولوی سے شکست کھا گیے۔ اس شکست کا اہم پہلو یہ ہے کہ مغربی ساٸنس داں دنیا کے اعلیٰ ترین ساٸنسی آلات و ہتھیار سے لیس تھے۔ اور خصوصی لیباریٹریز (تجربہ گاہوں) میں اپنے مشاہدات اور تجربات سے نتاٸج اخذ کر رہے تھے جب کہ یہ مولوی ﷲتعالٰی کا مقرب اپنے حجرے میں بیٹھا خدا کے حضور اس کی تمجید و ثنا بیان کر رہا تھا اور محض اپنے علم و کشف اور روحانیت کی بنیاد پر عالمی ساٸنس دانوں سے بر سر پیکار تھا۔ 

*داٸرۂ دنیا پر رضوی تحقیق* 
امام احمد رضا علیہ الرحمہ سے سُوال کیا گیا کہ دنیا کا داٸرہ کہاں تک ہے؟تو آپ نے ایسا مدلل اورتحقیقی جواب عنایت فرمایا کہ علمِ غیبِ مصطفے ﷺ کے منکرین کی عقلیں دنگ رہ گٸیں۔ فاسد افکار و نظریات کی بے سود عمارت متزلزل ہوگٸ۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: کہ "ساتوں آسمان اور ساتوں زمین دنیا ہے اوران سے دار سدرتہ المنتہیٰ عرش و کرسی دارِ آخرت ہے" اس ضمن میں آپ نے فرمایا کہ دارِ دنیا شہادت (ظاہر) ہے اور دارِ آخرت غیب (پوشیدہ) ہے۔ غیب کی کنجیوں کو مفاتیح اور شہادت کی کنجیوں کو مقالید کہتے ہیں۔ قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے " وَ عِندَہٗ مَفَاتِیحُ الغَیبِ لَا یَعلَمُھَا اِلَّا ھُو" (ﷲتعالٰی ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ان کو خدا کے سوا کوئی [بذات خود]نہیں جانتا) اور دوسری جگہ فرمایا "لہٗ مقالید السمٰوات والارض" (خدا ہی کے لیے ہیں آسمان و زمین کی کنجیاں) اور مفاتیح کا اول حرف "م" اور حرف آخر "ح"______ اور مقالید کا اول حرف "م" و حرف آخر "د" ہے۔ انہیں مرکب کرنے سے نام اقدس "محمد" (ﷺ)ظاہر ہوتا ہے (م+ح+م+د) اس سے یا تو اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ غیب و شھادت کی کنجیاں سب دے دی گٸیں محمد رسول اللہ ﷺ کو اور کوٸی شئی ان کے حکم سے باہر نہیں۔ یا پھر اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے "مفاتیح و مقالید" غیب و شہادت سب حجرہ خفا یا عدم میں مقفل تھیں۔ وہ مفتاح یا مقلاد جس سے ان کا قفل کھولا گیا اور میدان ظہور میں لایا گیا وہ ذات اقدس محمد ﷺ کی ہے کہ اگر یہ تشریف نہ لاتے تو سب اسی طرح مقفل حجرہ خفا میں رہتے۔ 

*آواز پر رضوی تحقیق*
جدید تحقیق کے مطابق آواز توانائی  کی ایک قسم ہے جو کسی جسم کے مرتعش ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک انسانی کان بیس سے بیس ہزار تک ہرٹز تعدد والی آواز کو سن سکتا ہے یعنی بیس ہرٹز سے کم اور بیس ہزار ہرٹز سے زیادہ فریکوٸنسی والی آواز ایک انسانی کان نہیں سن سکتا۔ کیوں کہ کان کا پردہ اس قدر تیزی سے حرکت نہیں کر سکتا۔ 
اعلیٰ حضرت نے اپنے تجربات و مشاہدات کی بنا پر فکر انگیز تحقیق پیش کرکے عالمِ اسلام میں سبقت حاصل کرلی۔ آپ کی فکر انگیز تحقیق کی تاٸید آج ماڈرن ساٸنس بھی کرتی ہے اور یہ تحقیق آج کل "Damped Harmonic Motion" کہلاتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ جلد دہم صفحہ 303 رسالہ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا سن 1909 ء  پر یوں رقم طراز ہیں: "عالمِ اسباب میں حدوث آواز کا سبب عادی یہ قرع و قلع ہے۔ اور اس کے سننے کا وہ تموج و تجدد و قرع و طبع تا ہوائے جوف سمع ہے۔ متحرک اول کے قرع سے ملا مجاور میں شکل و کیفیت مخصوصہ بنی تھی شکل حرفی ہوٸی تو وہی الفاظ و کلمات تھے ورنہ اور قسم کی آواز اس کے ساتھ قرع نےبوجہ لطافت اس مجاور کو جنبش بھی دی اس جنبش نے اپنے متصل کو قرع کیا اور وہ ٹھپا (Wave form/Harmonic Motion) کہ اس میں بنا تھا اس میں اتر گیا یوں ہی آواز کی کاپیاں ہوتی چلی گٸیں اگرچہ جتنا فصل بڑھتا اور وساٸط زیادہ ہوتے جاتے تموج و قرع میں ضعف آتا جاتا ہے ٹھپا ہلکا پڑتا ہے لہذا دور کی آواز کم سناٸی پڑتی ہے اور حروف صاف سمجھ میں نہیں آتے یہاں تک کہ ایک حد پر تموج کی موجب قرع آٸندہ تھا ختم ہوتا جاتا ہے اور عدم قرع سے اس تشکل کی کاپی برابر ہوا میں نہیں اترتی آواز یہیں تک ختم ہوجاتی ہے یہ تموج ایک مخروطی شکل پر پیدا ہوتا ہے، جس کا قاعدہ اس متحرک و محرک اول کی طرف ہے اور اس کے تمام اطراف مقابلہ میں جہاں تک کوٸی مانع نہ ہو آب و ہوا خود اپنے تموج سے (آواز)  پہنچاتی ہے۔ لیکن پختہ و خام عمارات میں آواز مسام کے ذریعہ پینچتی ہے۔
اور آٸینے میں آواز بلکل نہیں پینچتی ہے کیوں کہ نہ اس میں تموج ہوتی ہے نا ہی مسام۔

*آواز پہنچنے کے لیے کن چیزوں کا ہونا ضروری ہے؟ رضوی تحقیق و تجربہ ملاحظہ فرماٸیں*
اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالہ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا 1909 ء میں آواز پہنچنے کے متعلق اپنی ٹھوس تحقیق پیش کی ہے۔ 
(١) مرتعش یعنی جسم کا ہونا اشد ضروری ہے۔ 
(٢) مادی واسطہ یعنی ہوا یا پانی وغیرہ کا ہونا سخت ضروری ہے
(٣) سلسلہ تموج کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر یہ سلسلہ قاٸم نہ رہا تو آواز قطعی نہیں پہنچ سکتی ہے۔ 
(٤) آواز موصول کرنے والا آلہ یعنی کان کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ ورنہ کوٸی کیسے آواز کو سن سکے گا۔
(٥) اعلیٰ حضرت نے مذکورہ بالا رسالہ میں میڈیکل ساٸنس سے متعلق کان کی ساخت Anatomy of the ear بالخصوص Outer and middle ear پر بحث کی ہے۔ اور پردے Ear durm /Tympanic membrane اور پٹھے Tensortympani/Stapedious کو سننے کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔ 


*اعلیٰ حضرت محققین کی نظر میں*
(١) لبنان کے مفتٸ اعظم حضرت علامہ یوسف النبہانی رحمتہ اللہ علیہ نے اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ جات کو پڑھ کر فرمایا کہ "وہ ایک عظیم انسان تھے اور ساٸنسی علوم پر کامل دسترس رکھتے تھے۔"

(٢) مکہ شریف کے مفتی علی بن حسن مکی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ "احمد رضا خان کو تمام مذہبوں کی ساٸنس پر عبور ہے۔"

(٣) افغانستان کی مشہور و معروف "کابل یونی ورسٹی" کے پروفیسر عبدالشکور شاد نے اپنے تأثرات میں کہا کہ "مولانا احمد رضا خاں کی تمام تحریروں اور تصانیف کو  کیٹیلاگ کی شکل میں جمع کرنے نیز ہندوستان،پاکستان اور افغانستان کی لاٸبریریوں میں رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔" (روزنامہ جنگ 5/دسمبر2016) 


(٤) ملکِ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے دورِ حاضر کے عظیم ساٸنس داں ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی علمی بالخصوص ساٸنسی تحقیقات کے معترف ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے تأثرات کا اظھار بھی فرماتے رہتے ہیں۔ آپ نے روزنامہ جنگ میں باقاعدہ ایک پورا کالم "فقیدالمثال مولانا احمد رضا خان بریلوی" کے عنوان سے تحریر کیا جس میں آپ اعلیٰ حضرت کی علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے  لکھتے ہیں: "اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لاتعداد ساٸنسی موضوعات پر مضامین و مقالے لکھے ہیں آپ نے تخلیقِ انسانی، باٸیوٹیکنالوجی و جنیٹکس، الٹراساونڈ مشین کے اصول کی تشریح ٹوپو لوجی (ریاضی کا مضمون) چاند و سورج کی گردش۔ میٹرالوجی (چٹانوں کی ابتداٸی ساخت) دھاتوں کی تعریف۔ کورال (مرجان کی ساخت کی تفصیل) زلزلوں کی وجوہات ، مد و جزر کی وجوہات وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔ حقیقت یہ کہ مولانا احمد رضا بریلوی اپنے دور کے فقیہ، مفتی، محدث، معلم، ساٸنس داں اور اعلیٰ مصنف تھے۔ (رونامہ جنگ 5/دسمبر2016)

(٥) سن 1978 ء میں ممتاز پاکستانی ساٸنس داں ڈاکٹر عبدالسلام نے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی کتاب "فوز مبین در حرکتِ زمین" کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ "مجھے خوشی ہوئی کہ مولانا نے اپنے دلاٸل (Logical and Axiomatic) میں پہلو مدِّ نظر رکھا ہے۔"

(٦) ممتاز مغربی مستشرق کیلی فورنیا یونیورسٹی (مرکلے،امریکا) کی پروفیسر ڈاکٹر بار براڈی مٹکاف نے سن ١٩٧٤ء میں اپنی کتاب "ہندُستان میں مسلم مذہبی قیادت اور علما و صالحین سن 1860ء ____1900 ء" کے صفحہ 35 میں تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ (قدیم و جدید) میں امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی حیرت انگیز فہم و ذکاوت اور ان کی علمی و ادبی اور ساٸنسی و سماجی خدمات کا ذکر کیا ہے اور انہیں خوب سراہا ہے۔

(٧) ایم حسن بہاری نے اپنے مقالہ "امام احمد رضا علیہ الرحمہ جدید ساٸنس کی روشنی میں" امام احمد رضا کی بصیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ "امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی مذہبی، ادبی، ریاضی، ارضی، فلکی اور مادی یا ساٸنسی صلاحیتوں نے مجھے کافی متأثر کیا ہے" 

(٨) امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے علوم ساٸنس پر جو تحقیق فرماٸی ہے اور علمِ ریاضی پر مکمل کتب تصنیف فرماٸی۔ ان کے مطالعے کے بعد ممتاز ماہرِ ریاضیات پروفیسر ابرار حسین (علامہ اقبال یونی ورسٹی__ اسلام آباد) نے فرمایا۔ " بے شک اعلیٰ حضرت بہت بلند پایہ ریاضی داں تھے " اور ان کی تصنیف (الدولتہ المکیہ بالمادتہ الغیبیہ 1324ھ 1906ء ) کے نظریات وہ ہیں جو آج کل (Topology) کے زمرے میں آتے ہیں۔

(٩) ممتاز ریاضی داں، واٸس چانسلر آف مسلم یونی ورسٹی (علی گڑھ، بھارت) اور برّ صغیر کے عظیم مفکر و مدبر ڈاکٹر سر ضیاءالدین احمد [برصغیر میں ڈاکٹر سر ضیاءالدین احمد علمِ ریاضی پر سند تسلیم کیے جاتے ہیں] نے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فہم و ذکاوت، ساٸنس اور ادبی خدمات اور ان کے علمی کارناموں کو اس سنہرے الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں: "بلاشبہ صحیح معنوں میں یہ ہستی (امام احمد رضا) نوبل پراٸز کی مستحق ہے" ۔

المختصر یہ کہ سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی تحریرات و تحقیقات کو پڑھ کر یہ بات واضح ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو علم و حکمت کی دولت سے مالا مال کیا تھا اور آپ نے اپنی ساری زندگی علم کی خدمت میں صرف کردی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کریم نے آپ کو نہ صرف دینی بل کہ دنیاوی علوم میں بھی مہارت عطا فرماٸی تھی۔ 
علم کا یہ بحرِ بیکراں ایک متبحر عالمِ دین، محدث و مفتی، مفکر و ادیب، مصلح و مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسا محقق بھی تھا جس میں کٸی ساٸنس داں گم تھے۔ 
اپنے وقت کے بڑے بڑے ساٸنس داں آپ کی تحقیقات انیقہ کے سامنے طفلِ مکتب نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ آپ میں ایک طرف تو ابوالہیتم کی فکری بصارت و علمی روشنی تھی تو دوسری جانب جابر بن حیان جیسی صلاحیت و قابلیت۔ ایک طرف موسیٰ الخوارزمی اور یعقوب الکندی جیسی کہنہ مشقی تھی تو دوسری جانب الطبری، فرغانی، رازی اور بو علی سینا جیسی دانش مندی بھی تھی۔
آپ کو علوم قرآن و حدیث و فقہ، علوم صرف و نحو و فلسفہ، علوم عقاٸد و کلام و بیان اور منطق ولسان اور تقابلِ ادیان سمیت علوم ساٸنس پر بھی مکمل عبور و دسترس حاصل تھی۔
آپ نے دگر علوم کی طرح علمِ ساٸنس کے ہر گوشہ اور ہر پہلو کو اپنے منبعِ علم و عمل اور چشمئہ فیض سے سیراب کیا۔ ساٸنسی علوم پر آپ کی تحقیقات و تحریرات، مشاہدات و تجربات انمٹ نقوش اور آنے والوں کے لیے ہدایت و مشعلِ راہ ہیں۔
اگر ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو آپ کی ذات پاک میں اللہ و رسول کی محبت سب سے نمایاں نظر آتی ہے اور یہی آپ کے فضل و کمال کا سبب بھی ہے۔ 
بارگاہِ خدا عزوجل میں دست بدعا ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ آپ کے مرقدِ اطہر پر صبح قیامت تک رحمتوں کا نزول فرمائے ۔ اور آپ کی جملہ خدماتِ جلیلہ سے ہم اہل سنن کو فیض یاب ہونے کی توفیق رفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔


آصف جمیل امجدی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے