اندھیرے سے اجالے کی طرف۔ (دوسری قسط)

اندھیرے سے اجالے کی طرف ۔۔
دوسری قسط 



از۔محمد قمرانجم قادری فیضی 
چیف ایڈیٹر مجلہ جام میر بلگرام شریف 

پھر سہ ماہی پیام نظامی لہرولی ضلع سنت کبیر نگر جو کہ شہزادہ خطیب البراہین علامہ الحاج الشاہ حبیب الرحمن رضوی برکاتی دام ظلہ علینا کی سرپرستی میں اور حضرت علامہ ضیاء المصطفے نظامی صاحب قبلہ کی ادارت میں نہایت ہی شان و شوکت کے ساتھ نیز ہر تین ماہ پر تسلسل سے شائع ہوتا رہتا تھا۔ جس کا میں بےحد لگن، قلبی لگاؤ، اور وارفتگی سے مطالعہ کرتا تھا ۔میں نے بھی کئی مضامین ڈاک کے ذریعے سے پیام نظامی میں شائع ہونے کے لئے ارسال کئے مگر ایک بھی شائع نہیں ہوا ۔

اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ ذہن میں خیال آیا کہ اس دیار محبت میں حاضری دیتے ہیں کہ جس کے بارے میں کتابوں، رسالوں میں کافی حد تک پڑھ چکاتھا ، میرے مطالعے کے مطابق دارالقلم لہرولی سے کئی کتابیں اور سہ ماہی پیام نظامی تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا تھا ۔

 دارالعلوم فیض الرسول سے چھٹی لے کر لہرولی پہنچا، عصر کا وقت ہو رہا تھا چوراہے سے پیدل آتے آتے مغرب کا وقت ہوگیا، جامعہ حضرت صوفی نظام الدین لہرولی میں پہنچنے کے بعد ایک طالب سے شناسائی ہوئی، میں نے اپنے آنے کا مقصد بتایا تو اس سچے ہمدرد اور خیر خواہ طالب علم نے جامع علوم و فنون صاحب تصانیف کثیرہ علامہ طاہرالقادری مصباحی نظامی صاحب قبلہ [جوکئی تاریخی، سوانحی،علمی ادبی کتابوں کے مصنف/مولف/ مرتب ہیں اُس وقت سے لے کر اب تک 12/ سالہ طویل مدت سے آپ لکھ رہے ہیں،اور آپ کی ہر تحریر میں پہلی تحریر سے زیادہ ذوق و شوق سے پڑھتا ،مطالعہ کرتا تھا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے] سے ملاقات کروایا ۔ آپ نے بہت ہی محبت و خلوص کے ساتھ آنے کا مقصد پوچھا تو میں نے بتایا کہ آپ کے محبوب مجلہ سہ ماہی پیام نظامی میں اپنا ایک مضمون شائع کرانے کے ارادے سے آیا ہوں، آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے مجھے آپ اپنی تحریر دیتے جائیں، ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے شمارے میں شامل اشاعت کرلی جائے گی، میں نے وہ مختصر سی تحریر جو کہ بعنوان ' علامہ عبدالرحمن جامی علیہ الرحمۃ والرضوان ' تھی آپ کے حوالے کیا اور پھر وہاں سے سلام و دعائیں لے کر دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کی طرف رخصت ہوا ۔

پھر آنے والے شمارے جنوری تا مارچ 2012ء/ میں میری تحریر مجلے کے آخری صفحات کی زینت بنی، جب میں نے رسالہ منگوا کر دیکھا تو یقین جانیں فرط عقیدت و محبت سے جھوم اٹھا، اور آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہوگئے ۔ یقین جانیں اس قلمی خوشی کا اظہار لفظوں کے ذریعے نا ممکن ہے مجھے اتنی خوشی کبھی میسر نہیں آئی تھی، کیونکہ جب آپ کسی کام کو بار بار کرتے رہیں، اور اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو تو ذہن و فکر میں کہیں نہ کہیں 'چھوٹی سی امید' کی شمع بجھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔
مگر بفضل اللہ تعالیٰ میں نے اسی تحریر کے ذریعے سے حاصل شدہ خوشی کو خوب انجوائے کیا۔

اسی حوالے سے یہ بھی ملاحظہ فرمائیں :
ایک بار کا واقعہ ہے کہ حضرت علامہ مفتی مستقیم مصطفوی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ الرحمن [ اللہ انکے درجات بلند فرمائے انہیں غریق رحمت فرمائے] کے درسگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے گھنٹی کا وقت تھا آپ 'پیام نظامی لہرولی ' رسالے کو پڑھ رہے تھے، اسی اثناء میں آپ نے ہماری جماعت کے طلباء سے پوچھا کہ یہ 'قمرانجم ' متعلم دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول براؤں شریف' کون لڑکا ہے، یہ بہت اچھا لکھتا ہے، اور اس طالب علم کی تحریر، شائستہ گفتار، ، متوازن اسلوب، بین اور واضح ہیں۔
آپ نے زبان مبارک سے میرے لئے اور مضمون کے لئے تعریفی حوصلہ افزائی فرمائی، اپنے لئے تعریفی کلمات سُن کر مَیں اندر ہی اندر مسکرا رہاتھا، کیونکہ اس وقت دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں مجھے 'قمرانجم' کے نام سے کوئی نہیں جانتا تھا۔
مصطفوی صاحب قبلہ کے بارے میں بات کی جائے تو آپ ایک ذی استعداد، با صلاحیت و لیاقت عالم ربانی، جید مفتی، حساس طبیعت کے مالک،نمازوں کی سخت پابندی، چاہے ٹھنڈی ہو گرمی یا بارش ہو یا دھوپ ، آپ ہمیشہ نماز میں مداومت فرماتے اور درسگاہ کے اوقات میں طلباء پر بہت کڑی نگاہ رکھتے تھے، اور پڑھائی کے معاملے میں نیز عبارت خوانی کے معاملے میں بے حد سختی فرماتے تھے، اگرچہ خالی اوقات میں طلبہ پر نرمی برتتے تھے مگر درسگاہ کے وقت طلباء پر کوئی نرمی نہیں، کوئی رحم نہیں فرماتے تھے۔

 مزے کی بات بتاؤں ایک بار مجھے چھٹی کی حاجت ہوئی، اُس وقت تعطیل لینے کے لئے، اور طلباء کو تعطیل کی درخواست قبول کروانے کے لئے آپ کے پاس ہی جانا ہوتا تھا، جمعرات کا دن تھا، میں بھی چھٹی کی درخواست لکھ کر آپ کے پاس پہنچا، سلام و دعا کے بعد آنے کا مقصد پوچھا، میں نے عرض کیا کہ حضور: مجھے چھٹی چاہئے گھر جانا ہے کچھ ضروری کام کی وجہ سے، اتفاق سے 
اُس وقت خطیب الہند علامہ مفتی نظام الدین نوری جدید صاحب قبلہ بھی آپ کے کمرے 'دارالحفظ والحدیث میں' تشریف فرما تھے، آپ نے برجستہ کہا کہ چھٹی چاہئے : میں نے کہا جی: آپ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نعت سناؤ، چھٹی لو گھر جاؤ: میں نے کہا جی حضور: جیسا آپ کا حکم، موقع اچھا تھا۔ مَیں نے موقع کو گنوانا نہیں چاہا، فوراً میں نے یہ نعت شریف مکمل پڑھی :

 نعت پڑھتے رہیں گے ہمیشہ ہمکو جتنی بھی فرصت ملے گی،
 نعت سرور کے صدقے میں ہم کو ان شاء اللہ جنت ملے گی :

وعدے کے مطابق میری درخواست بارگاہ مصطفوی صاحب قبلہ غفرلہ میں مقبول ہوگئی ۔اور پھر ہنستا مسکراتا ہوا گھر چلا آیا۔ 

اُس وقت آپ کے پاس بھی فیض الرسول دارالافتاء سے متعلق سوالات آتے رہتے تھے، 
میری تحریر تمام طلبہ سے کافی ستھری، اور بہترین ہوتی تھی کئی بار آپ کے حکم پر فتاوی کی نقل میں نے کی ہے ۔
مجھے اپنی خوش خطی پر ناز و تکبر نہیں ہے بلکہ [ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ] 

خوش خطی کے فوائد کے بارے میں بات کی جائے تو خوش خطی کا فن مردہ ہوتا جا رہا ہے
 اچھے اچھے قلم کاروں کی تحریریں پڑھنے میں پسینہ آجاتا ہے، کیوں کہ وہ صاف نہیں لکھی ہوتی ہیں اور خط شکستہ سے قریب تر ہوا کر تی ہیں، حالاں کہ خوش خطی کی وجہ سے تحریر پڑھنے کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے، امتحانات میں اچھے نمبر ملتے ہیں، گویا چہار جانب سے فائدہ ہی فائدہ ہے، انہیں فوائد کے پیش نظر ہمارے بچپن میں تختی لکھوائی جاتی تھی، نرکٹ کا قلم ہوتا تھا، روشنائی ملتی تھی، یارنگ گھول کر روشنائی بنالیتے تھے نیز تختی صاف کرنے کے لیے کھڑیا مٹی کا استعمال ہوتا تھا، خوش خطی کے لیے مستقل محنت کرائی جاتی تھی اور یہ سلسلہ پرائمری درجات تک عموما جا ری رہتا تھا، تختی کے بعد نیب والے قلم کا استعمال ہونے لگا، نیب کی قط کاٹ دی جاتی تھی تو اس سے بھی قلم کی طرح حروف خوشخط لکھے جاتے تھے۔۔

پھر زمانہ اور ترقی کیا ، لیڈ پین کا دور آیا، تو خوش خطی کی طرف توجہ کم ہو گئی، اور اب استعمال کرو اور پھینکو قبیل کے قلم اور کمپیوٹر نے اس مرحلہ کو اختتام تک پہونچا دیا، اسکولوں میں رائٹنگ پاور بڑھانے پر خوب محنت ہوتی ہے، لیکن کسی زبان کے الفاظ کے خوش خط لکھنے کی طرف توجہ کم ہی ہوتی ہے، اس لیے ٹیڑھی میڑھی لکیروں کا پڑھنا آسان نہیں ہوتا، اور اگر وہ ڈاکٹر ہے تو اس کا نسخہ پڑھ لینا بغل والے دوا کے دکاندار کے علاوہ کسی کے لیے پڑھنا ممکن نہیں ہوتا، کیوں کہ ڈاکٹر کو دوا کا کمیشن اسی دوکاندار سے ملتا ہے۔ 

یہی حال ہمارے حکیموں و علماء کرام کا رہا ہے، ایسا لکھیں گے کہ دوسرا پڑھ ہی نہ سکے،
الٹا سیدھا پڑھ لیا تو گھر میں ماتم پَسر جاتی ہے، ایک حکیم صاحب نے نسخہ میں دانہ الائچی لکھا، نسخہ پڑھنے والے نے ’وانہ لا یحی‘‘ پڑھ دیا، یعنی وہ زندہ نہیں رہے گا، بس کیا تھا، رونا پیٹنا جو شروع ہوا۔ الامان والحفیظ۔۔۔

اس کے علاوہ جہاں تک میری یادداشت کام رہی ہے کہ ایک بار جامعہ ازہر قاہرہ مصر سے کوئی شیخ صاحب کی دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں آمد ہوئی تھی تو ان کے لئے دارالعلوم کی جانب سے ایک تاثراتی پیغام لکھنا تھا، تو اساتذہ کرام کے حکم سے میں نے بہترین اور خوبصورت انداز میں تاثراتی و تہنیتی پیغام لکھا تھا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگلی قسط کو پڑھنے کے لئے تھوڑا انتظار کریں۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے