آہ میرے ابا حضور علیہ الرحمہ

 آہ میرے ابا حضور علیہ الرحمہ






از: صاحبزادہ محمد افسر علوی قادری چشتی چیف ایڈیٹر مجلہ سہ ماہی پیام شعیب الاولیاء و سجادہ نشین خانقاہ قادریہ چشتیہ یارعلویہ براؤں شریف 



بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا

چاہے جانے کے سبھی عیب و ہنر رکھتا تھا


     دنیا میں کچھ انسانی رشتوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے جن کے ذریعہ زیست وحیات کی دشوار گزار راہوں سے گزرنا آسان ہوتا ہے۔ ان رشتوں میں شرعی،دنیاوی،سماجی تعلیمی،تربیتی یوں کہہ لیں ہر زاویۂ نظر سے سب سے اہم رشتہ والدین کا رشتہ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر والدہ ماجدہ کے رشتے کو اہمیت زیادہ دی جاتی ہے، اور اس کا اظہار بھی ہمیں مختلف صورتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے برعکس بہت سے لوگ والد کے رشتے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ حالانکہ والد کا رشتہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جسے کسی بھی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ماں کے قدموں تلے اگر جنت ہے تو باپ بھی جنت کا دروازہ ہے، جو اولاد کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ میں جانتا ہوں جو بچے، بچیاں بچپن میں ہی یتیم، یا عورتیں جوانی میں ہی بیوہ ہوتی ہیں وہی والد یا خاوند کے دکھ کو محسوس کرسکتے ہیں۔

ع۔۔۔ دلِ ناشاد کی حالت دلِ ناشاد ہی جانے 


میرے بغیر تھے سب خواب اس کے ویران سے

یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہ تھا ماں سے


آج میں ایک ایسی شخصیت کے بارے میں خامہ فرسائی کی  جرأتِ بے جا کررہا ہوں جو نہ صرف ہمارے والد ہیں بلکہ ہمارے استاذ،مربی اور ہمارے شیخ بھی ہیں، جن کو اربابِ فکر و نظر ،اصحابِ زہد وتقویٰ اور عوامِ اہلسنت شیخِ طریقت ہادیئ شریعت حضرت علامہ و مولانا الحاج الشاہ غلام عبدالقادر چشتی المعروف چشتی میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے نامِ پاک سے جانتے ہیں۔


اگر ہم والد کی حیثیت سے دیکھیں تو کوئی بھی ایسا فرضِ منصبی نہیں جو انہوں نے ادا نہ کیا ہو ہر فرض کو انہوں نے بخوبی انجام دیا۔میری اپنی سمجھ کے اعتبار سے جو اللہ کا برگزیدہ بندہ اور اس کا ولی ہوتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ دنیا کا کوئی کام جو اس کے فرائض میں سے ہو اسے ادھورا نہیں رہنے دیتا۔ بفضلہ تعالیٰ وہ بندۂ خدااپنے منصبی حدود میں آنے والے ہر فرض سے عہدہ بر آں ہوتا ہے۔

 میرے پدرِ بزرگوار جو ہزاروں علماء ومشائخ کے روحانی باپ ہیں مجھ فقیر پر بہت ہی شفقت فرماتے، ان کی محبتوں اور شفقتوں کو الفاظ کا جامہ پہنانے سے میں قاصر ہوں یہ وہ منزل ہوتی ہے جسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن احاطۂ تحریر وبیان میں نہیں لایا جاسکتا۔

پھر بھی ان کے ذکر کی لذت سے اپنے بے قرار دل کو قرار دینے کے لئے کچھ یادیں کچھ باتیں رقم کر رہا ہوں۔


 مجھے اچھی طرح سے یاد ہے تاحینِ حیات کبھی بھی مجھے آپ سے کوئی چیز طلب کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

والد ماجد علیہ الرحمہ طلب سے پہلے طلب سے زیادہ دینے کا ہنر رکھتے تھے۔جب کبھی کوئی ضرورت پیش آتی ایسا لگتا کہ آپ کو معلوم ہے ہمارے کہنے سے پہلے آپ ہم کو وہ عطا فرما دیتے۔ ان کی برکتوں سے ہمارا کوئی بھی کام ہوتا بآسانی مکمل ہوجاتا۔

آپ جانتے ہیں کہ اسباب کی کمی ہو تو ماہنامہ درکنار سالانہ اور ششماہی رسالہ نکالنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے مجھے یاد آرہاہے کہ جب میں نے سہ ماہی رسالہ بنام پیامِ شعیب الاولیاء براؤں شریف نکالنے کا عزم کیا اس وقت حضور والد ماجد علیہ الرحمہ زیرِ علاج تھے جس کی وجہ مالی اعتبار سے ہاتھ بہت تنگ تھا۔

 حضور والد ماجد علیہ الرحمہ کے پاس حاضر ہوکر میں نے اپنے ارادے کا اظہار کیا اور آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا تو حضرت بابرکت نے فرمایا کہ بیٹا! ان شاءاللہ تعالیٰ عزوجل ساری پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور اللہ رب العزت غیب سے مدد فرمائے گا اس کی چھپائی بھی آسانی سے ہو جائے گی۔

 الحمد للہ سارے انتظامات بآسانی ہوگئے رسالہ دہلی سے شائع ہوکر آگیا میں نے والد صاحب علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں رسالہ پیش کیا دیکھتے ہی آپ بہت خوش ہوئے اور بہت ساری نیک دعاؤں سے نوازا پھر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "بیٹا! اسی طرح محنت کرتے رہو، دین کا کام کرتے رہو ایک دن ان شاءاللہ عزوجل یہ رسالہ بہت کامیاب رسالہ ہوگا۔"

حضور والد ماجد علیہ الرحمہ کا یہ جملہ"ایک دن ان شاءاللہ عزوجل یہ رسالہ بہت کامیاب رسالہ ہوگا۔" سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی میں نے سوچا


جو بات جذب کے عالم میں نکلے لبِ مومن سے

وہ بات حقیقت میں تقدیرِ الٰہی ہے


پھرتو مجھے یقین ہوگیا کہ اب اس رسالہ کو کامیاب ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔


اسی لئے میں لوگوں سے کہتا بھی ہوں خود بھی سوچتا ہوں کہ یہ سب حضور والد ماجدکی دعائیں،پر دادا سرکار حضور شعیب الاولیاء اور دادا حضور مظہر شعیب الاولیاء علیہم الرحمہ کا فیضانِ کرم ہے کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے اور ان شاءاللہ تعالیٰ بنی رہی گی۔

میں جانتا ہوں اردو ادب کے رمز شناس ماہرین بہتوں رسائل کی ادارت ومشاورت میں شامل رہتے ہیں مگر پھر بھی وہ مقبولیت نہیں ملتی جو رسالہ ہذا کو قلیل سی مدت میں عوام و خواص میں حاصل ہوئی۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ


حال یہ ہے کہ ایک شمارہ آتے ہی ہاتھوں ہاتھ ختم بھی ہوجاتا ہے پھر لوگ دوسرے شمارے کا ماہئے بے آب کی طرح تڑپ کے ساتھ انتظار کرتے رہتے ہیں۔

آج حضور والد ماجد علیہ الرحمہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر آپ کی دعائیں اور آپ کا فیضان ہمیں سہارا دے رہا ہے۔

یہ اداس راہِ منزل یہ میری شکستہ پائی

میں تو تھک کر بیٹھ جاتا تیری یاد کام آئی 


جیسے ہی فقیر نے آپ کے عرس چہلم کے موقع پر خصوصی ضمیمہ نکالنے کا عزم کیا تو اولاً یہ خیال آیا کہ تحریریں کہاں سے ملیں گے لیکن توکلاً علی اللہ جوں ہی اعلان شائع کیا اتنی وافر تعداد میں تحریریں حضرت بابرکت کے متعلق موصول ہوئیں کہ میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کس کو شامل کیا جائے اور کس کو چھوڑ دیا جائے یہ بھی حضرت کا ایک طرح کا فیضان ہی ہے۔ 


والد صاحب علیہ الرحمہ کے ساتھ آخری پروگرام: 


         آج سے ایک سال قبل ہمارے عزیز دوست مولانا اطہر علی علیمی صاحب کے والد صاحب کا چہلم تھا چہلم سے پہلے انہوں نے مجھے فون کرکے بتایا کہ ہمارے والد صاحب آپ کے والد صاحب علیہ الرحمہ کے مرید ہیں میری خواہش ہے کہ والد صاحب کے چہلم کے موقع پر حضرت تشریف لائیں اور ساتھ میں آپ اور آپ کے برادران بھی آئیں ہم نے کہا ٹھیک ہے اگر حضرت کی طبیعت صحیح رہے گی ان شاءاللہ عزوجل ضرور حاضر رہیں گے جب وقت قریب آیا میں باہر تھا برادر کبیر حافظ و قاری صاحبزادہ محمد ارشد علوی قادری چشتی کو فون لگایا کہ آپ تیار ہوجائیں اور والد صاحب علیہ الرحمہ کو بھی تیار کردیں وہ بولے ٹھیک ہے ہم بانسی سے حافظ و قاری سید ابرار حسین بلرام پوری کے ساتھ براؤں شریف آئے والد صاحب علیہ الرحمہ اور برادر کبیر صاحبزادہ محمد ارشد علوی قادری چشتی زید شرفہ کے ہمراہ ہمارا چھوٹا سا قافلہ مولانا اطہر علی علیمی کے والد صاحب کے چہلم کے پروگرام میں شرکت کی غرض سے نکل پڑا۔

مغرب سے قبل ہم لوگ پہنچ گئے تمام لوگوں سے ملاقات ہوئی پھر ناشتہ وغیرہ ہوا مغرب کی اذان ہونے لگی ہم لوگ نماز پڑھنے کے لئے چلے گئے نماز کے بعد ہم لوگ ایک میدان میں حاضر ہوئے وہاں حضور والد ماجد علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس سے ایک نئے قبرستان کی بنیاد رکھی گئی بعده حضور والا نے دعا فرمایا۔


 بعد نماز عشاء مکمل طور سے پروگرام شروع ہوگیا پروگرام میں مبارک پور پھلپھلی  کے مولانا مجیب اللہ صاحب نے تقریر کے دوران فرمایا کہ آج میں سرکار حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ و سرکار حضور مظہر شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کی کرامت بیان کروں یا آپ کے پیر و مرشد حضرت علامہ غلام عبد القادر چشتی علیہ الرحمہ کی کرامت بیان کروں اور فرمایا کہ آپ حضرات سرکار حضور شعیب الاولیاء و سرکار حضور مظہر شعیب الاولیاء علیہا الرحمہ کی کرامت سنتے رہتے ہیں اس لئے آج میں کمرہ میں آرام کر رہے آپ کے پیر و مرشد شیخ طریقت حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمہ کی کرامت ہی بیان کر دیتا ہوں جو ہمارے گاؤں بلکہ ہمارے گھر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ہمارے یہاں تشریف لائے ہوئے تھے اپنے طور پر میں نےانتظام کیا تھا مگر مہمان زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھے لگا کہ کھانا کم پڑ جائے گا اور بہت سے لوگ بھوکے ہی رہ جائیں گے اس لئے میں حضرت کے پاس گیا اور اپنی پریشانی عرض کی تو حضرت نے فرمایا کہ مولانا صاحب آپ دیگ میں سے تھوڑا سا کھانا لیکر آجائیں میں جا کر تھوڑا سا نکلوا کر لایا اور حضرت کے سامنے پیش کردیا حضرت نے دعا کی اور کہا کہ مولانا صاحب یہ کھانا لیکر جائیں اور اسی کھانے میں ملا دیں جس میں سے کھانا نکل رہا ہے مگر اس بات کا خیال رہے کہ اس ڈیگ کو کھول کر دیکھا نہ جائے بلکہ اس میں سے کھانا نکالتے رہیں۔آپ کے حکم کے عینِ مطابق عمل کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ سارے لوگ کھانا کھا بھی لئے اور جس وقت حضرت نے دعا  فرمائی تھی اور جتنا کھانا اس وقت موجود تھا سب لوگوں کے کھانا کھانے کے بعد اتنا ہی کھانا بچا رہا میں سمجھ گیا کہ یہ حضرت کی دعاؤں کی برکت اور حضرت کی زندہ کرامت ہے۔ 


 فقیر قادری ان دنوں اتنا غمزدہ ہے کہ لکھنے کی ہمت نہیں ہو پا رہی ہے یہ تو حضرت کا فیضان ہے کہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مختصر سی تحریر لکھ رہا ہوں میں حضرت کی کن کن چیزوں کا ذکر کروں اور کن کن چیزوں کو چھوڑ دوں میں نے دیکھا کہ والد صاحب علیہ الرحمہ کے پاس امیر ہو یا غریب کوئی بھی آتا سب کی باتیں سنتے اور انہیں دعاؤں سے نوازتے اگر کوئی پریشان حال آتا تو بعد ملاقات اس کی پریشانی دور ہوجاتی اگر کسی انسان کو چار یا پانچ لوگ پکڑ کر حضرت کے پاس لاتے حضور والد ماجد معطئ ذاتی حقیقی سے قاسمِ نعمت،شافِع محشر،مالکِ جنت دافع البلاء والوباء والقحط والمرض والالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا صدقہ مانگتے ہی رہتے جب تک وہ شخص اپنی زبان سے یہ نہیں کہہ دیتا کہ مجھے آرام ہوگیا ہے۔

جب اسے اللہ والے کا سہارا مل جاتا تو وہ بغیر کسی کے سہارے کے خود سے چل کر واپس جاتا۔ نہ جانے کتنوں کو آپ کے شفا خانے سے شفا ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے شفا خانے میں جسمانی مریضوں کے ساتھ ساتھ روحانی مریضوں کا بھی بہترین علاج ہوتا تھا

روح کی گندگی کو صاف کرنے کے لئے نظروں سے وہ دوا پلائی جاتی تھی کہ اگر بے نمازی آتا تو نمازی بن جاتا، گنہ گار آتا نیکو کار بن جاتا، نا فرمان آتا فرماں بردار بن جاتا۔

آپ کی زندگی کے لمحات کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے آپ حق گوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، آپ کی مہمان نوازی کا تو کوئی جواب ہی نہیں اگر کوئی مہمان آنے والا رہتا تو آپ اس کا انتظار فرماتے اور جب وہ آجاتا تو اس کی خوب مہمان نوازی فرماتے۔ میں نے آپ کو پر دادا سرکار حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ و دادا سرکار حضور مظہر شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کی طرح زندگی گذارتے دیکھا ہے یہی وجہ تھی کہ بہت سے حضرات یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ آپ انتہائی متقی و پرہیز گار اور شریعت کے پابند اور فرائض و واجبات کے ساتھ سنتوں اور نفلوں کو بھی نہیں چھوڑتے تھے نمازوں کی سنتوں میں سنت موکدہ کے ساتھ سنت غیر موکدہ کو بھی پابندی سے ادا کرنا آپ کے معمولات میں داخل تھا آپ ان نوافل کو بھی ترک نہ کرتے جس کی طرف عام طور سے لوگ توجہ نہیں دیتے ہیں۔

  اکابر اولیائے کرام کی مزاراتِ مقدسہ کی  زیارت و فریضۂ حج ادا کرنے کے باوجود آپ کے اوراد ووظائف میں کوئی فرق نہ آیا۔ اپنوں میں ہوں یا غیروں میں، ہمیشہ اپنے معمولات کو ملحوظ رکھتے۔

 والد صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نماز پنجگانہ کے ساتھ ساتھ نماز تہجد و نماز اشراق وغیرہ پابندی کے ساتھ ادا کرتے تھے آپ نماز فجر ادا کرنے کے لئے جب مسجد جاتے تو نماز ادا کرنے کے بعد اوراد و وظائف میں مشغول ہوجاتے پھر جب نماز اشراق پڑھ لیتے تو عبادت و ریاضت میں مصروف ہوجاتے، یہاں تک کہ چائے ناشتہ وغیرہ مسجد میں لوگ لے کر پہونچا دیتے تھے

ویسے آپ بہت کم تناول فرماتے بس تبرکا مختصر سا تناول فرمالیتے تھے باقی دوسرے لوگوں کو تقسیم فرما دیتے تھے لوگ آپ کے معمولات کو دیکھ کر کہتے ایسا لگتا ہے جیسے حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ و حضور مظہر شعیب الاولیاء کی زندگی سامنے دکھائی پڑ رہی ہو اور یہ کہنا بےجا نہیں بلکہ بجا ہوگا کہ آپ حضور شعیب الاولیاء اور مظہر شعیب الاولیاء دونوں بزرگوں کے مظہر تھے۔

والد صاحب علیہ الرحمہ نے ہزارہا لوگوں کو اپنے دامن سے وابستہ کرکے سلسلۂ یارعلویہ کے فیضان سے مالا مال کیا۔ آپ کی پوری حیات مستعار اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت تھی جو کہ آئینہ کی طرح صاف اور دودھ کی طرح شفاف تھی۔

والد صاحب علیہ الرحمہ گونا گوں خوبیوں کے حامل تھے۔

وہ ایک مخلص، مشفق اور ہمدردِ قوم وملت تھے۔ آپ اصاغر نواز اور غریبوں کے غمگسار تھے۔ آپ مالداروں سے دور رہنے کی کوشش کرتے جو آج کے پیروں کے لئے نقش عبرت ہے۔

آپ علماے کرام سے بہت محبت فرماتے اور ان کا احترام کرتے۔ آپ علمائے کرام سے بڑی خندہ پیشانی سے ملتے، حالات، خیرو خیریت دریافت فرماتے کسی عالم دین کی آمد پر آپ کی خوشی کا عالم دیکھنے کے لائق ہوتا ان پر حد درجہ شفقت فرماتے کہ دیکھنے والا محو حیرت ہوجاتا اور رخصت کے وقت آپ انہیں کچھ نہ کچھ تحفہ یا نذرانہ ضرور دیتے۔

آپ اپنی تعریف نہ خود اپنی زبان سے کرتے تھے اور نہ ہی سننا پسند کرتے تھے۔ لوگ آپ کے پاس اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے حاضر ہوتے تو انصاف کے مطابق حق بات کہہ دیتے چاہے سامنے والے کو اچھا لگے یا برا کچھ پرواہ نہ کرتے تھے۔

آپ چھوٹے بچوں کے سروں پر دست شفقت پھیرتے اور پیار کرتے، عمر درازی کی دعا فرماتے، اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی مزاج پرسی کرتے. اس طرح سے آپ گونا گوں خوبیوں کے حامل تھے۔

چلا گیا مگر اپنا نشان چھوڑ گیا 

وہ شہر بھر کے لئے داستان چھوڑ گیا


اخیر میں فقیر قادری اپنے جملہ مضمون نگار حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ بر وقت آپ حضرات نے ہمیں اپنے گراں مایہ نگارشات سے نوازا نیز اپنے جملہ اراکین و معاونین کا شکر گزار ہوں جن کی اعانت سے یہ رسالہ منظر عام پر آرہا ہے۔ اللہ کریم اپنے حبیبِ عظیم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے صدقے جن لوگوں نے جس طرح سے بھی ہمارا ساتھ دیا ان کی تمام جائز مرادیں پوری فرما سب کا ایمان پر خاتمہ عطا فرما اور فقیرِ قادری کو والد ماجد علیہ الرحمہ کے مشن کو آگے بڑھانے کے توفیق عطا فرما آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسل


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے