وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود

 وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود




از: محمد نعیم امجدی اسمٰعیلی بہرائچ شریف

 نائب ایڈیٹر سہ ماہی پیام شعیب الاولیاء براؤں شریف


قرآن عظیم،فرقانِ حمید میں ہے: كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ

( پارہ : 4 ، سورۂ آلِ عمران : 110 )

ترجمہ :تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔(کنزالایمان)


تفسیر کبیر میں امام فَخْرُ الدِّین رازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں :  آیتِ کریمہ کا معنیٰ یہ ہے کہ اے مسلمانو !  لَوْحِ مَحْفُوظ میں تمہارا یہی وَصْف لکھا ہے کہ تم سب سے بہتر اور سب سے اَفْضَل اُمّت ہو ،  تمہارے لائِق یہی ہے کہ تم اس منصب کی حِفَاظت کرو ! یعنی ہمیشہ اللہ ورسول جل جلالہ وصلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطیع و فرمانبردار رہو۔

 اس آیتِ کریمہ میں رَبِّ کائنات نے اُمَّتِ مسلمہ کے 4 اَعْلیٰ اَوْصاف بیان فرمائے ہیں اور یہ 4 اَوْصَاف اَصْل میں اُمَّتِ مسلمہ کی 4 ذِمَّہ داریاں  بلکہ مقصدِ زِندگی ( Purpose of Life ) ہیں :(1) تم خیر الامم ہو   (2)نیکی کی دعوت دینا  (3)  بُرائی سے منع کرنا۔

(4) اللّٰہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھنا۔


ایک مسلمان کی اَوَّلین ذِمَّہ داری ہے کہ مسلمان ہمیشہ خَیْرُ الْاُمَمْ یعنی بہترین اُمَّت بن کر رہے۔ یقیناً جو بہتر ہوتا ہے ، وہ آئیڈیل ( Ideal ) بھی ہوتا ہے اور جو آئیڈیل ہوتا ہے ، وہ دوسروں کی نقل نہیں کرتا ، دوسرے اُس کے پیچھے چلتے ہیں ،ہم نے دوسری قوموں کو اپنا آئیڈیل بنا لیا ، ہونا تو یہ تھا کہ قومیں ہماری نقل کرتیں مگر ہم نَقَّال بن گئے ،  ہم دوسروں کی نقل کرنے لگے ،  چال ڈھال میں کافِروں کی نقل،تعلیم میں کافِروں کی نقل،اُصُول و قوانین میں کافِروں کی نقل ،  حتیٰ کہ جوتے کپڑے خریدنے اور کھانے پینے میں بھی غیر قوموں کی نقل کی جاتی ہے،صَدْ اَفْسَوس !  آج مسلمان قرآن نہیں سیکھتے ،  کافِروں کے فلسفے سیکھ لیتے ہیں ،   اپنے آقا و مولا،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کی سیرت کو نہیں دیکھتے،کافِروں کے انداز اپناتے ہیں۔

یاد رہے اسلام ہمیں صلاح و تقویٰ اختیار کرنے خشیت الہی اور عشقِ رسالت صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دلوں کو مزین کرنے کا شعور عطا کرتا ہے لیکن فیشن پرستی کے ہاتھوں ہم اتنے مجبور ہوچکے ہیں کہ ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں مگر اس کی حقیقت سَراب سے زیادہ نہیں ہوتی

 وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پر تھے 

روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں


ناچ گانے ،ڈول باجے تاشے،آتش بازی پٹاخے اور اس طرح کی بے ہودہ حرکتیں کل بھی حرام تھیں اور آج بھی اور ہمیشہ رہیں گی مگر افسوس شادی بیاہ ہو یا اور کوئی بھی تقریب بغیر اس کے ہماری محفل بے کیف اور بے سرور اور بے رونق نظر آتی ہیں۔

 معاذ اللہ! یہ اہل ہنود کے ساتھ خلط ملط کا نتیجہ ہے کہ مسلمان بھی یورپین تہذیب کے رنگ میں رنگ گئے اور اسلامی طرز عمل کو یَکسر بھول گئے مسلمانوں میں دن بدن بدکاریوں کا سیلاب بڑھتا ہی جا رہا ہے وہ صرف اس لیے کہ بے پردگی بدنظری اور نامحرم عورتوں کے ساتھ تخلیہ ان سے ہنسی مذاق کرنا دل لگی کی باتیں کرنا گفٹ دینا گندی تصویریں دیکھنا ڈانس پارٹی میں شریک ہونا فحش گانے سننا عریاں لباس پہننا مسلمانوں میں بھی عام سے عام تر ہوتا جا رہا ہے ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہے دوسروں کی زمین ہڑپ کر اپنی ملکیت تصور کیا جارہا ہے۔

مسلمانو ! اگر تم نے اپنے حالات نہ بدلے اپنی طرز زندگی نہ بدلی تو دنیا و آخرت میں ذلیل وخوار ہو جاؤ گے.


 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

 نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا


آج قومِ مسلم عقل سے اتنی پیدل ہو چکی ہے کہ جو لوگ ان کا جنازہ نکال رہے ہیں ان کے گھروں کو ویران کر رہے ہیں ،انہیں ملک بدر کرنے کی تیاری میں ہیں،انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کے درپے ہیں، انہیں بدبختوں کے ساتھ دوستانہ نبھا رہی ہے ان کےمذہبی تہواروں میں شامل ہو رہی ہے ان کی وضع قطع اپنائی جا رہی ہے کیا انہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان یاد نہیں حضور پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: "مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ" "خالفوا المشرکین" "مَن كثَّرَ سوادَ قومٍ فَهوَ منهم ومن رضيَ عملَ قومٍ كانَ شَريكَ من عملَ بِهِ"۔

اے مسلمانو! کیا تم اتنے بے غیرت اور بے شرم ہو کہ جن لوگوں نے تمہارے گھروں کو اجاڑ دیا، جن لوگوں نے تمہارے بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلی، جن لوگوں نے تمہاری دکانوں میں آگ لگا دی، جن لوگوں نے تمہاری بہن بیٹیوں کی عفت و عصمت کو چاک کرنے کی ناپاک کوشش کی، جن لوگوں نے تمہارے معصوم بچوں کو نظر آتش کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ درندوں نے ایک ۸۵ سال کی بوڑھی ماں کو بھی نظر آتش کردیا، جن لوگوں نے تمہاری مساجد کو بھی نہیں بخشا، جن لوگوں کے ہاتھ کلام اللہ کو بھی شہید کرنے سے نہیں کپکپائیں، جن لوگوں نے "جے شری رام" کا جھوٹا نعرہ لگا کر مسلمانوں کو اجاڑنے کی کوشش کی آج تم انہیں غلاظت کے لوتھڑوں کے ساتھ مل کر خوشیاں بانٹ رہے ہو، ان کی بیٹیوں کے ساتھ محبت کر رہے ہو، انہیں کی پیروی کررہے ہو اور انہیں کو اپنا آئیڈیل بناکر پیش کر رہے ہو

تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔

وہ دن آنے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لیجئے!

ورنہ کہتے پھروگے

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے


مسلم خواتین کا لباس نصرانیوں کی طرح تنگ وچست غیرمہذب ہوتا جا رہا ہے مسلم مردوں کا اسلامی لباس اور داڑھی کے ذریعہ جو امتیاز تھا ختم ہوتا جا رہا ہے وضع قطع سب غیروں کی اختیار کیا جارہا ہے، معاشرہ کے بھی حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں فضول خرچی، غریبوں کا خون، امیروں کی چاپلوسی،بے حیائی بدکاری،شراب نوشی اور دیگر بدکاریوں کا بازار گرم ہے گویا کہ اکثر مسلمانوں کی طرز زندگی اور ان کا وضع قطع دیکھ کر مسلم اور غیر مسلم میں ظاہراً کوئی فرق نظر نہیں آتا 

ڈاکٹر اقبال نے شاید اسی منظر کی عکاسی کی ہے

 آپ فرماتے ہیں:

 شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود 

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

 وضع میں تم ہو نصاریٰ،تو تمدّن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو


آج ضرورت ہے کہ ہم اور آپ الله تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اقوال و فرامین و ارشادات پر پورے طور پر عمل کریں اور اپنی وضع قطع کو اسلامی بنائیں،خود بھی شریعت طیبہ طاہرہ پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی ترغیب دیں۔

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "كلُّكم راعٍ وكلُّكم مسؤولٌ عن رعيَّتِه".(بخاري)تم سب ذمہ دار ہو اور تم سب سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ صرف اپنے اعمال و افعال کی فکر کافی نہیں بلکہ اہل خانہ،اہل محلہ اور اہل شہر کو نیکی کی راہ پر لانے کی بھی سعئ تمام کی جاے۔

 قرآن پاک کا ارشاد ہے: 


يا ايها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا

 النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ 

اے ایمان والواپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں(ترجمہ کنزالایمان)

ضرورت ہے کہ اللہ رب العزت کے عذاب سے پناہ مانگی جائے اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کی جائے۔


دعا ہے کہ اللہ تعالی اسلامی طرز عمل اور وضع قطع اپنانے کی توفیق بخشے اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت عظمیٰ نصیب فرمائے ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے


آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا 

آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے