شیعیت کی طرف بڑھتا ہوا سنیوں کا رجحان اور اس سے نجات کے طریقے

شیعیت کی طرف بڑھتا ہوا سنیوں کا رجحان اور اس سے نجات کے طریقے


از: حسنین رضا قادری علیمی جامعی گونڈوی

ابتدائےاسلام سے تاہنوز دین حنیف کو نت نئے فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، مخالف قوتیں اس کی بیخ کنی میں مشغول ہیں کبھی اعتزالی فتنہ زور پکڑا تو کبھی قرآن کو اللہ کی مخلوق ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی تاتاری بھونچال نے عالم اسلام کو بکھیر کر رکھ دیا اس کے باوجود بھی یہ فروغ و ارتقاء کے مراحل سے گزرتا ہوا یورپ و امریکہ کے کلیساؤں تک جا پہنچا ۔
زمانۂ سابق کی طرح اس دور میں بھی اسلام پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ہر چہار جانب سے اس پر باطل نظریات کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ان میں سے خاص کر یہ رافضیت کا فتنہ بہت ہی زیادہ توجہ کا حامل ہے کیونکہ بعض سنی بھی ان کے دام فریب میں آکر سنیت سے منہ موڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
رافضیت کی مختصر تاریخ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو اس دور میں دو بہت مشہور فرقے پیدا ہوئے ایک خوارج جو اہلبیت اطہار پر تبرا کرتے تھے اور دوسرا روافض جو اصحاب رسول کی شان میں گستاخیاں کرتے تھے ۔خوارج اختلاف زمانہ کے اعتبار سے اپنا لبادہ بدلتے رہے اور ختم ہوتے چلے گئے اصل خوارج کا وجود اگرچہ آج کے زمانے میں نہیں لیکن ان کی شاخیں اب بھی موجود ہیں۔
رہی رافضیت تو یہ ہمیشہ اپنی پہلی نظریات پر باقی رہی ، اس کی کئی شاخیں معرضِ وجود میں آئیں جن میں سے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرتِ جبرئیل علیہ السلام وحی غلطی سے نبی کی طرف لے کر چلے گئے جو کہ علی کے پاس آنا چاہئے ان کو رافض کہا گیا دوسرے جو خلافتِ شیخین کے منکرین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا کرتے ہیں ان کو تبرائی سے موسوم کیا گیا اور تیسرا گروہ جو شیخین کی خلافت کو تسلیم تو کرتا ہے لیکن فضیلت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ان پر فوقیت دیتا ہے جن کو تفضیلی کہا جاتا ہے اس زمانہ میں یہی وہ آگ ہے شیعیت کی جو سنیت کو کھاتی جا رہی ہے اس کے پیچھے بہت ساری وجوہات کارفرما ہیں چوں کہ ان دو صدیوں کے درمیان علمائے اہلسنت کی اکثریت نے فقط وہابیت اور دیوبندیت کے خلاف مناظرہ و مباہلہ کرنے میں زندگی بگزار دی اس لئے شاید اس طرف کسی کی توجہ نہ ہوسکی جس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر رافضیت نے اپنے پنجے جمانے کی کوششیں شروع کردیں ، اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ نظریات باطلہ کو اہلسنت کے درمیان داخل کر دیا صرف یہی نہیں بلکہ سنیت کے لبادے میں ملبوس رافضیوں کا ایک گروہ ہمارے مابین تبلیغ و تشریح میں مصروف ہو گیا اور لوگوں کے دلوں کو شکوک وشبہات کا آماجگاہ بنا دیا ، اس کے لئے انہوں نے مختلف ہتھکنڈوں کو آزمایا اور کامیاب بھی ہو گئے جیسے کہ پیشہ ور مقررین کے سامنے انہوں نے اپنی کتابیں پہنچا دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسٹیجوں پر دھواں دھار تقریر کرنے والے حمقاء نے فضائل اہلبیت کے بارے میں حد سے تجاوز کیا اور فضائل صحابہ سے بے اعتنائی برتی فضائل اہلبیت کو بیان کرنے کے لئے رافضی مولویوں کی کتب کا سہارا لیا جس میں صحابہ کرام کے مابین ہونے والے اختلاف کو نفس پرستی کا رنگ دیا گیا ، اس کی بہترین توجیہ پیش کرنے کے بجائے ایسے الفاظ کے پیرائے میں ڈھال کر واقعات صفین و جمل کو بیان کیا گیا جس سے ذاتی رنجش اور نفسیاتی دشمنی کا رنگ جھلکتا تھا، احادیث طیبہ کے باطل استدلال پیش کئے گئے ۔مناقب شیخین کو بیان کرنے کے بجائے مسئلہ فدک و خلافت بلا فصل کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا خلفاء ثلاثہ و امیر معاویہ اور زبیر بن العوام جیسے مظلوم صحابہ کرام کو غاصب و خائن کی صورت میں پیش کیا گیا حتیٰ کہ ہر وہ حربہ آزمایا گیا جس سے صحابہ کرام کی عظمت کو دلوں سے نکالا جا سکے اور عوام عدم علمی کی وجہ سے ان کی گرویدہ ہو گئی تو انہوں نے کھل کر شیعیت کا پرچار شروع کیا چوں کہ عوام الناس کا جاہل طبقہ ان کو حق پر سمجھنے لگا تھا جس پر ان کی باتوں کا خاطر خواہ اثر پڑا ، اور یہ ایک فطری امر ہے کہ جب کسی کی عیبوں اور غلطیوں کو کثرت سے بیان کیا جائے تو اگر چہ مذکور لہ اس طرح نہ ہو پھر بھی اس غلط بات پر دل جم جاتا ہے ، قلب میں کجی پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ مختصر وجوہات ہیں جن کی وجہ سے سنیت کے خلاف لوگوں کے دل شکوک وشبہات کا شکار ہو گئے اور یہ شک و شبہ نیم رافضی مولویوں کی وجہ سے منزل یقین تک پہنچ گیا ۔

اس سے بچاؤ کے طریقے۔۔

منبر رسول کو احمق خطباء سے خالی کر کے محقق و متصلب سنی عالم دین کو اس کی زینت بنایا جائے فضائل اہلبیت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی فضیلتیں اجاگر کی جائیں ۔ ماہ محرم الحرام کے دوران سنی علماء ہی کی کتابوں سے استفادہ کیا جائے اور حقیقت حال سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے دلائل و براہین کے ذریعے شیعیت کی تردید کی جائے اور ان کے پھیلائے ہوئے نظریات کو اسلامی انسائیکلو پیڈیا کی روشنی میں حقیقت کا آئینہ دکھایا جائے صحابہ کرام کے مابین ہونے والے اختلاف کو طاق نسیان میں رکھ دیا جائے ۔ زیادہ تر فتنہ یہ جاہل شعراء و خطباء کی وجہ سے در پیش ہے اس لیئے انکو یا تو ذوق مطالعہ کی ترغیب دی جائے یا اسٹیجوں سے نیچے رکھا جائے ۔ علمائے اہلسنت کے لئے یہ بات ملحوظ خاطر رکھنا بے حد ضروری ہے کہ سنیت پر کون سا فتنہ کس سمت سے اٹھ رہا ہے اس سے پہلے کہ وہ فتنہ اپنی تاریکیوں میں امت مسلمہ کو غائب کر دے نور علم سے اس  ظلمت کا پردہ چاک کر کے مومنین کو ایک مینارۂ نور عطا فرمائیں ۔ اگر ہم نے ذرہ برابر بھی بے توجہی دکھائی تو یہ باطل نظریات ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سنیوں کو رافضیت کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور تادم مرگ اہل سنت والجماعت پر قائم رکھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے